وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل اور وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 5 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک میں ٹیکس نظام کو آسان بنانے، ٹیکس چوری کو روکنے اور ٹیکس دائرہ کار کو وسعت دینے کے لئے اقتصادی اصلاحات پیکج کے تحت پانچ نکاتی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ قومی شناختی کارڈ نمبر ہی انکم ٹیکس نمبر ہو گا، 12 لاکھ سالانہ آمدن والے شری انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں …

اسلام آباد ۔ 5 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک میں ٹیکس نظام کو آسان بنانے، ٹیکس چوری کو روکنے اور ٹیکس دائرہ کار کو وسعت دینے کے لئے اقتصادی اصلاحات پیکج کے تحت پانچ نکاتی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ قومی شناختی کارڈ نمبر ہی انکم ٹیکس نمبر ہو گا، 12 لاکھ سالانہ آمدن والے شری انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے، 24 سے 48 لاکھ سالانہ آمدن پر 10 فیصد، 48 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس ہو گا، بیرون ملک سے رقوم کو قانونی طریقے سے لانے پر صرف 2 فیصد جرمانہ ہوگا، صوبائی سطح کے ٹیکس کو بھی ایک فیصد کی شرح پر لائیں گے، کم مالیت والی جائیداد 100 فیصد منافع پر حکومت خریدنے کی حقدار ہو گی، ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے آرڈیننس جاری کیا جائے گا جو بعد میں قانون کی شکل اختیار کر لے گا، ایمنسٹی سکیم 30 جون 2018ءتک جاری رہے گی، ایمنسٹی سکیم کا اطلاق سیاسی لوگوں، ان کے زیر کفالت افراد اور سرکاری ملازمین پر نہیں ہو گا۔ جمعرات کو وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل اور وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ وزیراعظم آفس میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم وقت کی ضرورت ہے، اس پر ہم نے گزشتہ چھ ماہ سے متعلقہ فریقین سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا، اس کا بنیادی مقصد ایک ایسا پیکج دینا تھا جس میں ٹیکس کے دائرہ کار کو وسعت دی جا سکے اور عوام کو سہولت حاصل ہو، ٹیکس دینا ہر ذمہ دار شہری کے بنیادی فرائض میں شامل ہے، اس وقت کیفیت یہ ہے کہ ملک میں 207 ملین لوگوں میں سے صرف 12 لاکھ لوگ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرا رہے ہیں جن میں پانچ لاکھ زیرو ریٹرن کے حامل ہوتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف سات لاکھ لوگ انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں جن میں تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ہے، یہ ایک غیر پائیدار صورتحال تھی اور حکومت اس پر سوچ بچار کر رہی تھی کہ اس شعبہ میں انقلابی اصلاحات وقت کی ضرورت ہے، دنیا بھر میں جن شہریوں کی آمدنی زیادہ ہوتی ہے وہ زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور جن کی آمدنی کم ہوتی ہے ان کے لئے ٹیکس کی شرح کم ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیر پائیدار ٹیکس کے نظام کی وجہ سے بالواسطہ ٹیکسوں کی شرح زیادہ ہوتی ہے جو غیر منصفانہ نظام ہے۔

مزید خبریں