اسلام آباد ۔ 5 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے ہماری کوششوں کی بدولت آئی ٹی شعبہ کو جون 2019ءتک ٹیکس فری قرار دیا، غیر ملکی 100 فیصد ملکیت رکھنے کے ساتھ ساتھ پورا منافع بیرون ملک لے جانے کے مجاز ہیں، گذشتہ پانچ سال میں آئی ٹی کے شعبہ میں ترقی کی شرح بڑھ کر 150 فیصد ہو گئی۔ …
حکومت نے ہماری کوششوں کی بدولت آئی ٹی شعبہ کو جون 2019ءتک ٹیکس فری قرار دیا، انوشہ رحمن

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے ہماری کوششوں کی بدولت آئی ٹی شعبہ کو جون 2019ءتک ٹیکس فری قرار دیا، غیر ملکی 100 فیصد ملکیت رکھنے کے ساتھ ساتھ پورا منافع بیرون ملک لے جانے کے مجاز ہیں، گذشتہ پانچ سال میں آئی ٹی کے شعبہ میں ترقی کی شرح بڑھ کر 150 فیصد ہو گئی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے 38ویں اجلاس کی صدارت کی جمعرات صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں 2018ءسے لے کر 2021ءتک کے دورانیہ میں انفارمیشن ٹےکنالوجی کی ترقی کا عمل تیز کرنے کےلئے مختلف شروعات اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت انوشہ رحمان نے کہاکہ ہماری انتھک محنت اور مسلسل کوششوں اور فراخدلانہ مراعات کے باعث انفارمیشن ٹےکنالوجی شعبہ نے بڑی ترقی کی ہے۔ سافٹ ویئر اور آئی ٹی شعبہ کو جون 2019ءتک ٹےکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا جبکہ غیر ملکی 100 فیصد ملکیت رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا تمام ترمنافع یعنی 100 فیصد منافع بیرون ملک بھیج سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی اور انفارمیشن ٹےکنالوجی شعبہ کی ترقی کی شرح گذشتہ 5سالوں میں بڑھ کر 150فیصد ہوگئی ہے جوکہ تاریخی کامیابی ہے۔








