وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو پہلی فلم و کلچر پالیسی سے متعلق بریفنگ

اسلام آباد ۔ 19 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت اطلاعات،نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فلمی صنعت کی بحالی کے لئے پہلی فلم و کلچر پالیسی کو فنانس بل 2018میں شامل کیا جائےگا ،فلم و کلچر پالیسی پر مکمل عملدرآمد کر کے خطے میں سینما پر بھارت کی اجارہ داری کو ختم کیا جاسکتا ہے، فلمی صنعت کی مکمل بحالی اور ترقی کے …

اسلام آباد ۔ 19 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت اطلاعات،نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فلمی صنعت کی بحالی کے لئے پہلی فلم و کلچر پالیسی کو فنانس بل 2018میں شامل کیا جائےگا ،فلم و کلچر پالیسی پر مکمل عملدرآمد کر کے خطے میں سینما پر بھارت کی اجارہ داری کو ختم کیا جاسکتا ہے، فلمی صنعت کی مکمل بحالی اور ترقی کے لئے فلم بنانے کے آلات کی برآمد پر 10سال کے لئے سیلز ٹیکس کی چھوٹ،فلم فنانس فنڈ کے تحت عالمی معیار کی حامل فلمیں ،سینما گھر بنانے اورسٹوڈیوز کے قیام کے لئے 5کروڑ تک کے قرضوں کا اجرائ،فلم اکیڈمی کا قیام،فلم ڈائریکٹوریٹ کی تنظیم نو، آرٹس اسسٹینس فنڈ،سینما ہاﺅسز میں 350کا ٹکٹ رکھنے والے سینما گھروں کو انکم ٹیکس کی چھوٹ سیمت دیگر مراعات دیں گئیں ہیں ،گذشتہ 30/35سالوں کے دوران ہونے والی دہشت گردی نے فلم کے شعبے کو بھی متاثر کیا ، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ویژن کے تحت صوبائی حکومتوں کے تعاون ،مسلح افواج ،قانون نافذ کرنے والے ادراوں اور عوام کی لازوال قربانیوں کی بدولت آج پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے ،کھیلوں کے میدان آباد ،فلم، میوزک بحالی کی جانب گامزن ہے، بھارتی سکرین پر پاکستانی فلمیں اور ڈرامے نہیں دکھائے جاتے تو پاکستان میں بھارتی مواد دکھانے پر پابندی ہونی چاہیے اس ضمن میںمیڈیا کو غیر ملکی مواد دکھائے جانے کے حوالے سے مختص کوٹہ کو ملحوظ خاطررکھنا چاہیے ،فلم بنانے والوں کو پاکستان کے دلکش اور خوبصورت مقامات تک رسائی فراہم کی جائے گی ،غیر ملکیوں کو پاکستان میں 70فیصد فلم بنانے اور 30فیصد اپنے ملک میں بنانے کی صورت میں تمام مراعات اور ٹیکسز کی چھوٹ سے استفادہ حاصل کر سکیں گے۔ وہ جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے اجلاس کو پہلی فلم و کلچر پالیسی سے متعلق بریفنگ دے رہیں تھیں ۔