اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کبھی سوچا بھی نہیں کہ مجھے سزا ہوئی تو میں کسی سے رحم کی اپیل کروں گا، نیب اور چیئرمین نیب اپنی ساکھ کھو چکے ہیں، بہتر ہے کہ وہ قوم سے معافی مانگیں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دےدیں، نیب کے الزام کو نظر انداز کرنا …
مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کبھی سوچا بھی نہیں کہ مجھے سزا ہوئی تو میں کسی سے رحم کی اپیل کروں گا، نیب اور چیئرمین نیب اپنی ساکھ کھو چکے ہیں، بہتر ہے کہ وہ قوم سے معافی مانگیں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دےدیں، نیب کے الزام کو نظر انداز کرنا پورے سیاسی، آئینی اور جمہوری نظام کو خطرے میں ڈالنا ہے، مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی پر وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے دباﺅ ڈالا جا رہا ہے، الیکشن میں تاخیر ملک کے خلاف سازش ہو گی، جو بھی اس میں ملوث ہوا وہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مرتکب ہو گا، آئندہ عام انتخابات میں زمینی مخلوق خلائی مخلوق کو شکست دے گی، سیاسی جماعتوں کو مل جل کر ملک کے مفاد کیلئے آگے بڑھنا ہو چاہئے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں، جیسے ہی ان کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوئی تو ہم آگے بڑھیں گے۔ جمعرات کو یہاں پنجاب ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی طرف سے 8 مئی 2018ءکو ایک پریس ریلیز جاری کیا گیا، اس حوالہ سے قوم کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھتا ہوں، میں پہلے بھی نیب کے جانبدارانہ، متعصب اور عناد پر مبنی رویہ کی طرف اشارہ کرتا رہا ہوں، اس پریس ریلیز نے میری بات کی توثیق کر دی ہے، نیب نے اپنی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر میری کردار کشی کو اپنا شعار بنا لیا ہے، ایک اردو اخبار میں چھپنے والے کالم کو جواز بنا کر ورلڈ بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”عذر گناہ بد تر از گناہ“ اس الزام کو نظر انداز کرنا پورے سیاسی، جمہوری اور آئینی نظام کو خطرے میں ڈالنا ہے۔








