سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی عدم استحکام سمیت دیگر شدید چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان کی معیشت نے مالی سال 26–2025 کے دوران 3.7 فیصد کی شرحِ نمو حاصل کرتے ہوئے 452 ارب ڈالر کے ریکارڈ حجم تک پہنچ گئی ہے۔یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ معاشیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ذلاکت ملک نے جمعہ کے روز اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی …
چیلنجز کے باوجود مالی سال 26–2025 میں پاکستان کی معیشت نے مضبوط ترقی حاصل کی، ماہرین

مزید خبریں
پشاور۔ 12 جون (اے پی پی):سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی عدم استحکام سمیت دیگر شدید چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان کی معیشت نے مالی سال 26–2025 کے دوران 3.7 فیصد کی شرحِ نمو حاصل کرتے ہوئے 452 ارب ڈالر کے ریکارڈ حجم تک پہنچ گئی ہے۔یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ معاشیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ذلاکت ملک نے جمعہ کے روز اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود مالی سال 26–2025 میں خاطر خواہ اقتصادی ترقی حاصل کرنے پر مکمل کریڈٹ اور تعریف کی مستحق ہے۔ پاکستان اقتصادی سروے 26–2025 کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی کارکردگی حوصلہ افزا رہی جس میں 25 اہم معاشی اشاریوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ ڈاکٹر ذلاکت ملک نے کہا کہ پاکستان نے جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.7 فیصد حاصل کی جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں کہا کہ جی ڈی پی کی ترقی مالی سال 2023 میں 0.2- فیصد، مالی سال 2024 میں 2.6 فیصد اور مالی سال 2025 میں 3.2 فیصد رہی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں اہم ملکی اور بین الاقوامی چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مالی سال کا آغاز امریکہ کی جانب سے عائد کردہ بڑھتے ہوئے ٹیرف، اگست اور ستمبر کے دوران مون سون کے سیلابوں اور رواں سال مارچ میں ابھرنے والی علاقائی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کے باوجود حکومت نے کامیابی سے انتظام کیا اور معیشت کو استحکام سے ترقی کی راہ پر گامزن رکھا۔ ڈاکٹر ذلاکت ملک نے پاکستان کی معیشت کے 452.1 ارب ڈالر تک پہنچنے، فی کس آمدنی 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہونے اور مالی سال 2025 میں 279.35 روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں شرحِ مبادلہ کے 280.65 روپے پر مستحکم رہنے کو مثبت اشارے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ نے 6.1 فیصد کی نمو حاصل کی، سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ہوا، سروسز کے شعبے میں 4.9 فیصد وسعت آئی اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن سروسز میں 7.5 فیصد اضافہ ہوا جو مضبوط معاشی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔
اسسٹنٹ پروفیسر سندس امین نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس وصولی میں 10 فیصد اضافے کو سراہا۔ انہوں نے ترسیلاتِ زر کی مضبوط آمد کے تعاون سے 72 ملین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق مالی سال 26–2025 جولائی تا مارچ کے دوران ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ صرف اپریل میں آمد نے 4.3 ارب ڈالر کا ریکارڈ چھوا جو کسی ایک مہینے میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ آمد ہے۔ انہوں نے رواں مالی سال کے دوران برآمدات، بالخصوص ٹیکسٹائل اور کھیلوں کے سامان میں اضافے کا بھی خیرمقدم کیا۔ جاری فیفا ورلڈ کپ کےلیے پاکستان میں تیار کردہ فٹ بالز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں 18 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی جبکہ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں اور اگلے مالی سال میں ان کے 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ماہرین نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری اور مقامی سرمایہ کاروں کو ملکیت کی مجوزہ منتقلی کے حوالے سے وفاقی حکومت کی کوششوں کو بھی سراہا۔ سندس امین نے اس بات پر زور دیا کہ جی ڈی پی میں اضافے کےلیے برآمدات پر مبنی معیشت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کا انحصار معاشی پالیسیوں کے تسلسل اور سیاسی استحکام پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدتی معاشی ترقی صرف مسلسل پالیسی سازی اور مستحکم سیاسی ماحول کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ماہر معاشیات سنبل ریاض نے کہا کہ اقتصادی سروے رپورٹ 2026 انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو کی وصولی جون 2024 میں 32.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر جون 2025 میں 41.9 ارب ڈالر اور مزید بڑھ کر جون 2026 میں 46.4 ارب ڈالر ہو گئی۔ یہ دو سالوں میں تقریباً 14 ارب ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے جو 46 فیصد کی مجموعی ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین نے زراعت کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور کہا کہ سیلاب سے متعلق چیلنجز کے باوجود اس شعبے نے گزشتہ سال کے 1.53 فیصد کے مقابلے میں مالی سال 26 میں 2.89 فیصد کی نمو ریکارڈ کی۔
لائیو اسٹاک کے شعبے نے بھی مالی سال 26–2025 کے دوران مضبوط ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا۔پاکستان اقتصادی سروے کے مطابق اہم فصلوں نے 0.65 فیصد کی معمولی ترقی کی جو ملے جلے پیداواری رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔ گندم کی پیداوار میں 4.3 فیصد اضافہ ہوا جو 28.396 ملین ٹن سے بڑھ کر 29.605 ملین ٹن ہو گئی۔ چاول کی پیداوار 2.8 فیصد بڑھی جو 9.723 ملین ٹن سے بڑھ کر 9.998 ملین ٹن ہو گئی جبکہ گنے کی پیداوار 6.2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.24 ملین ٹن سے بڑھ کر 89.45 ملین ٹن ہو گئی۔ تاہم مکئی کی پیداوار میں 2.68 فیصد کمی واقع ہوئی، جو 9.037 ملین ٹن سے گر کر 8.794 ملین ٹن رہ گئی، جبکہ کپاس کی پیداوار میں 0.5 فیصد کی معمولی کمی آئی، جو 7.084 ملین گانٹھوں سے کم ہو کر 7.052 ملین گانٹھیں رہ گئی۔ دیگر فصلوں نے 2.43 فیصد کی ترقی ریکارڈ کی جس کی وجہ چنے (50.4 فیصد)، آلو (27.6 فیصد)، آم (11.6 فیصد)، کیلے (30.8 فیصد)، ہلدی (25.1 فیصد)، اور مرچوں (9.2 فیصد) کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ تھا۔ کپاس کی جننگ اور متفرق زرعی سرگرمیوں نے کپاس کی کم پیداوار کے باعث 0.07 فیصد کی معمولی ترقی درج کی۔لائیو اسٹاک میں گزشتہ سال کے 2.95 فیصد کے مقابلے میں 3.75 فیصد اضافہ ہوا جسے سبز چارے کی دستیابی میں 4.5 فیصد کمی کے باوجود پیداوار میں 3.46 فیصد اضافے سے مدد ملی۔ اسی طرح جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں نے بالترتیب 2.02 فیصد اور 1.66 فیصد کی شرحِ نمو حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ گرین پاکستان انیشیٹو نے جنگلات کے زیرِ احاطہ رقبے میں اضافہ کیا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔وفاقی حکومت کے لائیو اسٹاک پروگراموں نے خیبر پختونخوا میں گوشت اور دودھ کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔ ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حکومت چیلنجنگ ملکی اور بین الاقوامی حالات کے باوجود موجودہ مالی سال کے دوران خاطر خواہ معاشی ترقی حاصل کرنے پر تعریف کی مستحق ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مالی سال 27–2026 کا وفاقی بجٹ زراعت، صنعت، برآمدات اور دیگر سماجی و اقتصادی شعبوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات فراہم کرے گا تاکہ جی ڈی پی کی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکے۔








