سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس،فنانس بل 2026-27 کا تفصیلی جائزہ ، اہم ٹیکس اور ڈیجیٹائزیشن اقدامات کی منظوری

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس، فنانس بل 2026-27 پر تفصیلی غور

اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہواجس میں فنانس بل 2026-27 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ٹیکس، سیلز ٹیکس، ڈیجیٹائزیشن اصلاحات اور ریونیو میں اضافے سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، جن کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، تعمیل بہتر بنانا اور آمدنی میں اضافہ ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق کمیٹی نےمخصوص حالات میں کاروباری ریکارڈ کے ری آڈٹ کا فریم ورک،نیشنل فیس لیس سینٹر کے قیام اور ٹیکس آڈٹ و اسیسمنٹ کے خودکار نظام کی منظوری دی۔ غیر حقیقی انوائسز کے خلاف سخت اقدامات اور ڈیجیٹل نظام میں عدم شمولیت پر جرمانوں سمیت دیگر سزاؤں کی بھی منظوری دی گئی۔مزید برآں ضبط شدہ سامان کی ای آکشن، کنسائنمنٹ گاڑیوں کی خودکار ضبطی کے خاتمے اور پی آئی اے سمیت تمام اہل فضائی کمپنیوں کے لیے طیاروں اور پرزہ جات کی درآمد و لیز پر کسٹمز و ٹیکس مراعات کی منظوری دی گئی۔کمیٹی نے ایس سی او سمٹ اور انسداد دہشت گردی کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس استثنیٰ کی بھی منظوری دی، تاہم اس کے لیے متعلقہ وزارتوں کی منظوری لازمی قرار دی گئی۔اجلاس میں ریٹیل پیکڈ مصنوعات پر 12 فیصد سیلز ٹیکس سمیت دیگر محصولات سے متعلق تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کل پیر کو صبح 11 بجے بجٹ تجاویز کا مزید جائزہ جاری رکھے گی۔