بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں کوہستانی مارخور کو معدومی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار کر رہی ہیں، رپورٹ

داسو کوہستان کے پہاڑوں میں کشمیری مارخور کی فطری زندگی کی دلکش جھلک

پشاور۔ 14 جون (اے پی پی):جب داسو کوہستان کے سنگلاخ پہاڑوں پر صبح کی پہلی کرن نمودار ہوتی ہے تو ایک تنہا کشمیری مارخور صدیوں سے دریائے سندھ کے بہتے پانیوں سے تراشی گئی وادی کے اوپر واقع چٹانی ڈھلوان پر نہایت احتیاط سے اپنا راستہ بناتا ہے یہ نایاب جنگلی بکری، جو اپنے شاندار بل کھاتے سینگوں اور غیر معمولی پھرتی کے باعث مشہور ہے، طویل عرصے سے دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ میٹھے پانی کی ندیوں اور سرسبز پہاڑی چراگاہوں پر انحصار کرتی آئی ہے۔

آج جنگلی حیات کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس علامتی نسل کو معدومی کا بڑھتا ہوا خطرہ صرف شکاریوں یا درندوں سے نہیں بلکہ پانی کے سکڑتے ہوئے وسائل سے بھی لاحق ہے، جس کا تعلق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (IWT) کی خلاف ورزیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔نسل در نسل دریائے سندھ، جہلم اور چناب نے نہ صرف کروڑوں انسانوں بلکہ جنگلات، گھاس زاروں، دلدلی علاقوں، آبی وسائل اور پہاڑی مساکن کو بھی زندگی بخشی ہے، جو حیاتیاتی تنوع کی ایک وسیع دنیا کو سہارا دیتے ہیں۔ماہرینِ تحفظِ ماحول نے خبردار کیا ہے کہ ان مغربی دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کشمیر کے ہمالیائی خطے سے لے کر پنجاب کے میدانی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے شمالی پہاڑی خطوں تک پھیلے نازک ماحولیاتی نظام پر دور رس منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔خیبر پختونخوا کے سابق چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف ڈاکٹر محمد ممتاز ملک نے کہاکہ پانی کے مسلسل بہاؤ کے بغیر جنگلی حیات اور مارخور کی بقا تقریباً ناممکن ہے۔اپنے عشروں پر محیط تحفظِ جنگلی حیات کے تجربے اور سرویز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے پانی کو ہمالیائی حیاتیاتی تنوع، ماہی گیری اور جنگلی حیات کی زندگی کی بنیاد قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ پانی جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کمی آتی ہے تو خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب میں تحفظِ ماحول کی کوششیں شدید متاثر ہوں گی۔ پوری غذائی زنجیر انہی میٹھے پانی کے نظاموں پر قائم ہے۔بلند پہاڑی چراگاہوں میں کوہستانی مارخور ان پودوں پر انحصار کرتا ہے جو موسمی ندی نالوں اور پہاڑی چشموں کے پانی سے پروان چڑھتے ہیں۔ڈاکٹر ممتاز ملک کے مطابق پانی کی دستیابی میں تبدیلی پودوں کی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے، چراگاہوں کو محدود کر سکتی ہے اور ان مساکن کو مزید تقسیم کر سکتی ہے جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے دباؤ کا شکار ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دریائی نظام مزید دباؤ کا شکار ہوئے تو مارخور کو خوراک اور پانی کے حصول میں زیادہ مشکلات پیش آ سکتی ہیں، خصوصاً طویل خشک ادوار کے دوران۔مساکن کی تباہی مارخور کی آبادی میں کمی کو مزید تیز کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسی نسلوں میں جو پہلے ہی کشمیر کے خطے میں بقا کی جدوجہد کر رہی ہیں۔یہ تشویش صرف ایک نسل تک محدود نہیں بلکہ پورے حیاتیاتی تنوع، بشمول ہجرت کرنے والے پرندوں اور ٹراؤٹ مچھلی تک پھیلی ہوئی ہے۔خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کا متنوع قدرتی منظرنامہ، جو نیم گرم جنگلات سے لے کر برف پوش چوٹیوں تک پھیلا ہوا ہے، جنوبی ایشیا کی بعض نایاب ترین جنگلی انواع کو پناہ فراہم کرتا ہے، جن میں برفانی چیتا، ہمالیائی بھورا ریچھ، مشک ہرن، ہمالیائی گورال، یوریشین لنکس، پینگولن، بھونکنے والا ہرن اور سرمئی بھیڑیا شامل ہیں۔ماہرینِ ماحولیات کو خدشہ ہے کہ دریاؤں کے بہاؤ میں کمی ان باہم مربوط ماحولیاتی نظاموں میں ایک زنجیری ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔میٹھے پانی کے وسائل سکڑنے سے افزائشِ نسل کے قدرتی ادوار متاثر ہو سکتے ہیں، جنگلی حیات کی نقل مکانی بڑھ سکتی ہے، نباتاتی ڈھانچہ کمزور ہو سکتا ہے اور خشک سالی کے خلاف قدرتی مزاحمت گھٹ سکتی ہے۔داسو اور دوبیر وادیوں میں دریائے سندھ کے کنارے رہنے والے مقامی ماہی گیروں اور کسانوں نے دریا کے ساتھ اپنے گہرے تعلق کا ذکر کیا۔ ان کے لیے پانی محض ایک وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک مکمل انداز ہے۔ یہی پانی فصلوں کو سیراب کرتا، مویشیوں کو سہارا دیتا، ماہی گیری کو ممکن بناتا اور ان جنگلات کو زندگی بخشتا ہے جو جنگلی حیات کی پناہ گاہ ہیں۔ڈاکٹر ملک نے زور دیتے ہوئے کہاکہ جب پانی نہیں ہوتا تو مساکن باقی نہیں رہتے اور جب مساکن ختم ہو جائیں تو تحفظ کے پروگرام بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر ماحولیاتی اور انسانی چیلنجز کو بھی جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہ کہ جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع ماحولیاتی نظام کو صحت مند رکھتے ہیں اور پائیدار زراعت و غذائی تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ پانی کے بہاؤ میں کمی خشک سالی اور صحرائی عمل کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے، جس کا نتیجہ بھوک، غربت اور کروڑوں لوگوں کے لیے غذائی عدم تحفظ کی صورت میں نکلتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن، گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں اتار چڑھاؤ اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ جیسے مسائل موجود ہیں۔ان کے مطابق دریائی نظام پر مزید دباؤ زراعت، جنگلات، پولینیشن (گردہ افشانی) کے عمل اور جنگلی حیات سمیت متعدد شعبوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ہمالیائی مونال، ہمالیائی سنوکاک، چکور اور یوریشین ایگل اُلّو جیسے پرندوں کی نسلیں بھی میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام سکڑنے کی صورت میں اپنے مساکن سے محروم ہو سکتی ہیں۔ڈاکٹر ملک نے کہاکہ پانی پوری غذائی زنجیر کو قائم رکھتا ہے۔ اگر ایک سطح پر بھوک پیدا ہو تو اس کے اثرات پورے ماحولیاتی نظام میں پھیل جاتے ہیں۔ماہرینِ ماحولیات اور جنگلی حیات نے عالمی اداروں، خصوصاً ورلڈ بینک، جس نے 1960 میں سندھ طاس معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا، سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور خطے میں ماحولیاتی استحکام کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔انہوں نے عالمی تحفظِ ماحول کی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ ہمالیائی ماحولیاتی نظام میں دریاؤں کے بہاؤ میں ممکنہ کمی کے ماحولیاتی اثرات پر زیادہ توجہ دی جائے۔کوہستان اور کولئی پالس کے دریا کنارے رہنے والے دیہاتیوں کے لیے پانی کا یہ معاملہ نہایت ذاتی نوعیت رکھتا ہے۔ ہر ندی، نہر اور دریا ان کی روزی روٹی، غذائی تحفظ اور آنے والی نسلوں کی بقا کی علامت ہے۔ماہرینِ تحفظِ ماحول کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کو سیاسی تنازعات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ جب دریائے ہمالیہ سے نکل کر کوہستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑوں سے گزرتے ہوئے پنجاب کے زرخیز میدانوں تک پہنچتے ہیں تو وہ صرف پانی ہی نہیں لاتے بلکہ مقامی آبادیوں کی امیدیں، نایاب جنگلی انواع کی بقا اور پورے خطے کا ماحولیاتی توازن بھی اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر یہ پانی کم ہو گیا تو اس کے بعد چھا جانے والی خاموشی صرف کوہستان اور کشمیر کے پہاڑوں تک محدود نہیں رہے گی جہاں مارخور گھومتا پھرتا ہے، بلکہ ان تمام علاقوں اور آبادیوں میں محسوس کی جائے گی جو اپنی بقا کے لیے انہی دریاؤں پر انحصار کرتی ہیں۔