خون عطیہ کرنا عظیم انسانی، اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے ،صوبائی مشیرنسیم الرحمن ملاخیل

خون عطیہ کرنا عظیم انسانی و سماجی فریضہ ہے، نسیم الرحمن ملاخیل

کوئٹہ۔ 14 جون (اے پی پی):صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے عالمی یومِ عطیہ خون کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خون کا عطیہ دینا ایک عظیم انسانی، اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے جو کسی ضرورت مند انسان کی جان بچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

دنیا بھر میں یہ دن انسانیت کی خدمت، ایثار اور ہمدردی کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہزاروں تھیلیسیمیا کے بچے ایسے ہیں جن کی زندگی باقاعدگی سے خون کی فراہمی پر منحصر ہے۔ یہ معصوم بچے ہر ماہ خون کے منتظر رہتے ہیں اور معاشرے کے صاحبِ استطاعت اور صحت مند افراد کے عطیہ کردہ خون سے اپنی زندگی کا سفر جاری رکھتے ہیں۔ تھیلیسیمیا کے بچوں سمیت حادثات، آپریشنز اور دیگر پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے خون کی مسلسل دستیابی انتہائی ضروری ہے۔ نسیم الرحمن خان ملاخیل نے نوجوانوں، سماجی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور فلاحی اداروں پر زور دیا کہ وہ خون عطیہ کرنے کی مہمات میں بھرپور حصہ لیں اور معاشرے میں رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کے شعور کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بیگ خون کسی کی پوری زندگی بچا سکتا ہے اور انسانیت کی خدمت کا یہ جذبہ ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہے اور وہ معاشرتی خدمت کے میدان میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان آگے بڑھ کر تھیلیسیمیا کے بچوں اور دیگر ضرورت مند مریضوں کے لیے خون عطیہ کرنے کے عمل کو اپنی سماجی ذمہ داری سمجھیں۔آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ عالمی یومِ عطیہ خون کے موقع پر انسانیت کی خاطر خون عطیہ کرنے کے عزم کی تجدید کریں اور اس پیغام کو گھر گھر پہنچائیں کہ:*”خون کا عطیہ، زندگی کا تحفہ ہے۔