بجٹ مالیاتی استحکام کی سمت اہم قدم،ساختی اصلاحات کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، معاشی ماہرین

پائیدار اقتصادی ترقی کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر قرار

اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع، موسمیاتی لچک، توانائی کے شعبے کی اصلاح، بہتر حکمرانی اور موثر سماجی تحفظ کے اہداف محض محصولات میں اضافے سے حاصل نہیں کئے جا سکتے بلکہ اس کے لئے گہری ادارہ جاتی، انتظامی اور ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ بجٹ بعد از تجزیہ میڈیا بریفنگ میں ماہرینِ اقتصادیات اور پالیسی ماہرین نے وفاقی بجٹ 2026-27 کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے تنخواہ دار طبقے، آئی ٹی شعبے اوردستاویزی معیشت کو دی گئی مراعات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نےکہا کہ بجٹ مالیاتی استحکام کی سمت ایک اہم قدم ضرور ہے لیکن پائیدار اور جامع ترقی کے لئے مزید اصلاحات درکار ہیں۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے دستاویزی معیشت کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے، آئی ٹی شعبے اور رجسٹرڈ کاروباروں کو نمایاں سہولتیں دی گئی ہیں تاہم غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لئے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔انہوں نے زرعی آمدن پر ٹیکس کے نفاذ میں درپیش عملی مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ صوبائی ترقیاتی اخراجات میں کمی کی صورت میں تعلیم، صحت، پانی اور بلدیاتی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ اگرچہ معیشت بدستور آئی ایم ایف پروگرام اور مالیاتی استحکام کی پالیسیوں کے زیر اثر ہے تاہم بجٹ کو مکمل طور پر استحکامی بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نئے ٹیکس لگانے کے بجائے ٹیکس وصولی کے نظام اور انتظامی صلاحیت کو بہتر بنانے پر توجہ دی ہے۔ فیس لیس ٹیکس نظام اور نگرانی کے جدید طریقہ کار کو مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے انہوں نے شفاف نفاذ اور مالی شمولیت کے فروغ پر زور دیا۔ڈاکٹر شفقت منیر نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں زراعت کی مزاحمت بڑھانے اور سماجی تحفظ کے نظام کو آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آفات سے متعلق بجٹ ٹیگنگ، ابتدائی انتباہی نظام، پیشگی حفاظتی اقدامات اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے موسمیاتی اثرات سے ہم آہنگ نقد امداد کے پروگراموں میں مزید سرمایہ کاری کی سفارش کی۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ بجٹ کا بنیادی زور مالیاتی استحکام پر ہے جبکہ ساختی تبدیلی اور برآمدات پر مبنی ترقی کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ 15.264 کھرب روپے کے محصولات کا ہدف مہنگائی، معاشی سرگرمیوں میں اضافے اور بہتر ٹیکس تعمیل کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم ریٹیلرز ٹیکس اسکیم سے نمایاں آمدن کی توقع کم ہے۔ انہوں نے تنخواہ دار طبقے کے لئے سالانہ قابلِ ٹیکس آمدن کی حد 12 لاکھ روپے تک بڑھانے، زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس شرح 30 فیصد تک محدود کرنے، فائلر اور نان فائلر کی تفریق ختم کرنے اور پیٹرولیم لیوی پر انحصار کم کرنے کی تجویز دی۔سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے کہا کہ پاکستان میں غربت موسمیاتی خطرات اور کثیرالجہتی محرومیوں کے باعث مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں 17 فیصد اضافے اور مستفید خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ دو لاکھ تک بڑھانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تاہم اس بات پر زور دیا کہ سماجی تحفظ کو صرف نقد امداد تک محدود رکھنے کے بجائے روزگار، چھوٹے کاروباروں اورخواتین کی معاشی خودمختاری سے جوڑا جانا چاہئے۔توانائی اور موسمیاتی امور کے ماہر ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ بجٹ میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے جبکہ توانائی کے موثر استعمال اور طلب کے انتظام کو مناسب اہمیت نہیں ملی۔ انہوں نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، بیٹری ذخیرہ سازی کی جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے اور الیکٹرک گاڑیوں کے لئے مراعات کو مثبت پیش رفت قرار دیا تاہم بین الاقوامی معیارات کے مطابق جامع گرین بجٹنگ فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔ریسرچ فیلو ڈاکٹر عرفان احمد چٹھہ نے کہا کہ بجٹ کا بنیادی مقصد معاشی استحکام اور مالیاتی نظم و ضبط ہے، اسے ترقیاتی بجٹ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا جائزہ صرف سالانہ اعداد و شمار کے بجائے درمیانی مدت کی مالیاتی منصوبہ بندی کے تناظر میں لیا جانا چاہئے۔ایس ڈی پی آئی کی سربراہ، ماحولیاتی پائیداری و سرکلر اکانومی یونٹ، زینب نعیم نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مختص فنڈز میں کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی سروے میں موسمیاتی تبدیلی کو معیشت کے لئے بڑا خطرہ قرار دینے کے باوجود موافقت، آبی وسائل، زراعت اور گلیشیئرز سے متعلق منصوبوں کے لئے مختص وسائل کم کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ موسمیاتی معاونتی لیویز کا ایک حصہ قابلِ تجدید توانائی اور موسمیاتی موافقتی منصوبوں کے لئے مختص کیا جائے اور موسمیاتی بجٹ ٹیگنگ کے نظام کی باقاعدہ نگرانی اور اثرات کا جائزہ لیا جائے۔