لاہور۔30 دسمبر(اے پی پی ) پی ایچ ایف کی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ 2018 ءکا سال ہاکی کےلئے ماضی کی نسبت بہتر رہا لیکن ہاکی کے ناقدین کے مطابق قومی ہاکی ٹیم کی کارکردگی ناقص ہی رہی،پاکستان ہاکی ٹیم نے 2018 میں روایتی حریف بھارت کے ساتھ مشترکہ طور پر ایشین چمپیئن بننے اور 8 سال بعد ورلڈکپ میں شرکت کرکے ہاکی کی عظیم اقوام میں خود کو شامل …
ء 2018کا سال ہاکی کےلئے ماضی کی نسبت بہتر رہا ،پی ایچ ایف کی انتظامیہ کا دعوی
لاہور۔30 دسمبر(اے پی پی ) پی ایچ ایف کی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ 2018 ءکا سال ہاکی کےلئے ماضی کی نسبت بہتر رہا لیکن ہاکی کے ناقدین کے مطابق قومی ہاکی ٹیم کی کارکردگی ناقص ہی رہی،پاکستان ہاکی ٹیم نے 2018 میں روایتی حریف بھارت کے ساتھ مشترکہ طور پر ایشین چمپیئن بننے اور 8 سال بعد ورلڈکپ میں شرکت کرکے ہاکی کی عظیم اقوام میں خود کو شامل رکھا،پاکستان ہاکی ٹیم نے 2018 ءکا آغاز ورلڈ الیون کے خلاف دو میچوں کی سیریز سے کیا جو طویل عرصے بعد پاکستان آئی تھی اس کے علاوہ ورلڈکپ، ایشین گیمز، ایشین چمپینز ٹرافی اور ہالینڈ میں منعقدہ چمپیئنز ٹرافی میں شرکت کی جبکہ 2018 ءمیں اذالان شاہ ہاکی کپ میں قومی ٹیم شامل نہیں تھی۔ورلڈ الیون میں جرمنی، ارجنٹینا،اسپین، ہالینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سابق اسٹارز شامل تھے اور قومی ٹیم کے خلاف دو میچ کھیلے، اس سیریز کو پی ٹی سی ایل ہاکی کپ کا نام دیا گیا تھا، ملک میں ویمن ہاکی سپر لیگ کا فروری 2018 ءمیں انعقاد کیا گیا جس میں لاہور لائنز نے پشاورکو شکست دے کر ٹائٹل حاصل کیا، قومی ہاکی ٹیم کے لئے غیرملکی کوچ کا تقرر کیا گیا لیکن ٹیم کی مسلسل شکستوں اور ناقص کارکردگی کی ذمہ داری لیتے ہوئے رولینڈ اولٹیمنز نے 22 ستمبر کو ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا،ہاکی فیڈریشن کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں اولٹیمنز نے کہا کہ قومی ٹیم کی کارکردگی اور نتائج کی پوری ذمے داری قبول کرتا ہوں،دولت مشترکہ گیمز جو کہ گولڈ کوسٹ آسٹریلیا میں منعقدہ ہوئے ان میں تو پاکستانی ٹیم ناقابل شکست رہی لیکن فتح ان سے دور رہی جس کے باعث ٹیم کا سفر سیمی فائنل تک رسائی سے پہلے ہی مکمل ہوا کیونکہ ملائیشیا کے ساتھ کھیلا گیا ایک اہم میچ بھی شفقت رسول کے واحد گول کی بدولت 1-1 گول سے برابر رہا تھا جس کے بعد پاکستان کو ساتویں پوزیشن کے لیے کینیڈا سے مقابلہ کرنا پڑا۔









