پنجاب اسمبلی کا اجلاس:سال2026-27 کا صوبائی بجٹ منظور کر لیا گیا

"پنجاب اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ، 131 مطالباتِ زر اور فنانس بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا،

لاہور۔27جون (اے پی پی):پنجاب اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ، 131 مطالباتِ زر اور فنانس بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ بجٹ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس کے تحت بعض ٹیکسوں اور فیسوں میں ردوبدل جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

ایوان نے 339 کھرب 67 ارب 34 کروڑ 48 لاکھ 65 ہزار روپے سے زائد مالیت کے 131 مطالباتِ زر اور فنانس بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیے جبکہ اپوزیشن کی تمام کٹوتی کی تحریکیں مسترد کر دی گئیں۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 1 گھنٹہ 47 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے پر پنجاب حکومت، پولیس، رینجرز، سی سی ڈی اور دیگر اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ یومِ عاشور کے انتظامات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے، ایک لاکھ چوبیس ہزار اہلکار سکیورٹی پر تعینات رہے، پہلی مرتبہ تھرمل ڈرونز، کیو آر کوڈ، سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فول پروف سکیورٹی فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی 437 ترقیاتی سکیمیں ہیں جن میں سے 340 سے زائد منظور ہو چکی ہے، ترقیاتی منصوبوں، ماحولیات، کلائمیٹ چینج، سموگ کنٹرول، جنگلات، صاف پانی، جنوبی پنجاب اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جبکہ اپوزیشن نے نہ بجٹ پڑھا اور نہ ہی حقائق کا مطالعہ کیا۔ وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ڈپٹی سپیکر سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کے جن ارکان نے قیادت کے خلاف نعرے بازی اور نامناسب گفتگو کی ہے انہیں معطل کیا جائے کیونکہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں اس حوالے سے اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ اپوزیشن ارکان اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے، جس کے بعد حکومت نے بجٹ گرانٹس کی منظوری کا عمل جاری رکھا۔فنانس بل کی منظوری سے قبل پنجاب اسمبلی نے تقریبا ً339کھرب 67ارب34کروڑ48لاکھ65ہزار مالیت کے 131 مطالبات زر کی کثرت رائے سے منظوری دی اور اپوزیشن کی تمام کٹوتی کی تحریکیں کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔بعد ازاں فنانس بل کی منظوری دیتے ہوئے بجٹ 2026-27 منظور کر لیا گیا۔ پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے فنانس بل اور مختلف محصولات سے متعلق متعدد تجاویز پیش کی تھی جنہیں منظور کرلیاگیا اور یکم جولائی 2026سے لاگو ہوگا جس کے تحت زرعی انکم ٹیکس، آبیانہ، موٹر وہیکل ٹیکس اور بعض دیگر فیسوں میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ کپاس پر عائد ڈیوٹی ختم کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں کو نمایاں ریلیف دیا گیا ہے ۔مذکورہ تمام ٹیکسز اور بجٹ پر عملدرآمد یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس بروز پیر 11 بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔