"تاجکستان کے قومی یومِ اتحاد کی 29ویں سالگرہ قومی یکجہتی، دوستی اور باہمی تعاون کے جذبے کی عکاس ہے۔”
پاکستان میں تاجکستان کے سفارت خانے کاتاجکستان کے قومی یومِ اتحاد کی 29ویں سالگرہ کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد
اسلام آباد۔27جون (اے پی پی):پاکستان میں تاجکستان کے سفارت خانے نے تاجکستان کے قومی یومِ اتحاد کی 29ویں سالگرہ کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیاجس میں پاکستان میں مقیم تاجک برادری کے افراد نے شرکت کی۔
تقریب سےخطاب کرتے ہوئے پاکستان میں تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ نے شرکاء کو قومی یومِ اتحاد کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ 27 جون 1997 کو امن اور قومی مفاہمت کے قیام کے جنرل معاہدے پر دستخط تاجکستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئےجس نے ملک میں تنازع کے خاتمے، پائیدار امن، سیاسی استحکام، قومی مفاہمت اور دیرپا ترقی کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ تاجکستان کے بانی امن و قومی اتحاد اور صدر امام علی رحمان کی مدبرانہ قیادت، سیاسی بصیرت، مکالمے سے وابستگی اور مسلسل کاوشوں کے باعث ملک خانہ جنگی کے اثرات سے نکل کر امن، استحکام، قومی یکجہتی اور ریاستی تعمیر کے سفر پر گامزن ہوا۔سفیر نے قومی اتحاد کو آزادی کے بعد تاجکستان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اتحاد کا تحفظ اور فروغ ہر شہری کی مقدس ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم تاجک شہریوں پر زور دیا کہ وہ حب الوطنی، قومی اقدار کے احترام اور مثبت طرزِ عمل کے ذریعے اپنے وطن کا روشن تشخص اجاگر کریں اور اس کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔یوسف شریف زادہ نےعالمی امن کے فروغ میں تاجکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے تاجکستان کی پیش کردہ قرارداد "مستقبل کی نسلوں کے لیے امن کے استحکام کی بین الاقوامی دہائی (2027ء تا 2036ء)” کی منظوری عالمی برادری کی جانب سے تاجکستان کو امن پسند ملک اور عالمی تعاون کے فعال داعی کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی مفاہمت اور امن کے قیام میں تاجکستان کا کامیاب تجربہ عالمی برادری کے لیے قابلِ تقلید مثال ہے جبکہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس کی امن سے متعلق کاوشیں ملک کے عالمی وقار میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ امن، استحکام اور قومی اتحاد کے تحفظ، ریاستی اقدار کے فروغ اور ایک آزاد و خوشحال تاجکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔تقریب کے دوران ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں تاجکستان کے امن و مفاہمت کے سفر، قومی اتحاد کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں اور قیادت کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ فلم کوشرکاء نے بھرپور دلچسپی سے دیکھا اور اسے آئندہ نسلوں کے لیے امن و ہم آہنگی کی اہمیت اجاگرکرنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔تقریب کا اختتام دوستانہ اورخوشگوار ماحول میں منعقدہ ثقافتی نشست پر ہواجہاں شرکاءنے تاجکستان کی آزادی کے بعد ہونے والی ترقی، قومی اتحاد کی اہمیت اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔مہمانوں کی تواضع روایتی تاجک دسترخوان سے کی گئی جس نے تاجک ثقافت، روایات اور مہمان نوازی کی بھرپور عکاسی کی۔تقریب حب الوطنی، قومی فخر اور امن، اتحاد و ترقی کے عزم کی تجدید کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔








