آئی سی سی کی خواتین کرکٹرز کیلئے زچگی کے بعد واپسی سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری
آئی سی سی، خواتین کرکٹرز کیلئے زچگی کے بعد دوبارہ کرکٹ میں واپسی سے متعلق نئی ہدایات جاری

مزید خبریں
لاہور۔22جون (اے پی پی):انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے خواتین کرکٹرز کیلئے زچگی کے بعد دوبارہ کرکٹ میں واپسی کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
خواتین کرکٹ میں پیشہ ورانہ مواقع بڑھنے کے ساتھ اب زیادہ کھلاڑی اپنے کیریئر کے دوران خاندان بڑھانے کا انتخاب کر رہی ہیں اور بچے کی پیدائش کے بعد دوبارہ اعلی سطح کی کرکٹ میں واپسی چاہتی ہیں۔آئی سی سی کی جانب سے متعارف کرائی گئی یہ ہدایات اسی عمل کو آسان اور محفوظ بنانے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔آئی سی سی کے مطابق خواتین کرکٹرز کی صحت اور فلاح و بہبود تنظیم کی ترجیحات میں شامل ہے اور خواتین کرکٹ کی ترقی کے لیے جاری اقدامات کا یہ ایک اہم حصہ ہے۔نئی گائیڈ لائنز رکن ممالک کو مقامی قوانین کے مطابق اپنی پالیسیاں بنانے میں مدد فراہم کریں گی جبکہ کھلاڑیوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر دوبارہ کھیل کی طرف واپس آنے میں معاون ثابت ہوں گی۔اس مقصد کے لیے6 آرز پر مشتمل ایک فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جس میں تیاری، طبی جائزہ، بحالی، جسمانی ری کنڈیشننگ، کھیل میں واپسی اور مسلسل نگرانی جیسے مراحل شامل ہیں۔یہ طریقہ کار بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی بحالی سے لیکر مکمل طور پر کرکٹ میں واپسی تک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔آئی سی سی کی میڈیکل ایڈوائزری کمیٹی کی رکن اور آسٹریلوی خواتین ٹیم کی ڈاکٹر فلپا اِنج نے ان ہدایات کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ان کے مطابق اس پالیسی کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ماں بننا کسی خاتون کرکٹر کے کیریئر کا اختتام نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی اور اس کے خاندان کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے معاونت کا نظام بھی انفرادی حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔ویسٹ انڈیز کی تجربہ کار کرکٹر آفی فلیچر،جو2021 میں اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئیں اور آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ2026 میں بھی شریک ہیں،نے اس اقدام کو خواتین کرکٹ کیلئے مثبت پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ نئی پالیسیاں خواتین کھلاڑیوں کو خاندان اور کھیل دونوں کو ساتھ لیکر چلنے کا اعتماد فراہم کریں گی۔فلیچر نے اپنی واپسی کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جسمانی بحالی ایک مشکل مرحلہ تھا،تاہم سب سے بڑا چیلنج اپنے بچے سے دور رہنا اور اس کے ساتھ اہم لمحات سے محروم ہونا تھا۔ان کے مطابق مضبوط خاندانی اور پیشہ ورانہ تعاون کے ساتھ کھلاڑیاں کامیابی سے دوبارہ کھیل میں واپس آ سکتی ہیں۔آئی سی سی ترجمان نے کہا کہ خواتین کرکٹ کی تیزی سے ترقی کے ساتھ ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے ایسا ماحول بھی فراہم کیا جائے جو ان کی زندگی کے ہر مرحلے میں معاون ثابت ہو۔ان کے بقول ماں بننا اور اعلی سطح کی کرکٹ کھیلنا ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ نئی ہدایات کا مقصد رکن ممالک کو کھلاڑیوں کی بہتر معاونت اور خواتین ٹیلنٹ کو کھیل میں برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔








