آئی ڈی آئی اور کے اے سی کے درمیان سول و تجارتی تنازعات کے حل کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

پاکستان آئی ڈی آئی اور چین کے کرامائے آربیٹریشن کمیشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):پاکستان کے انٹرنیشنل ڈسپیوٹ ریزولوشن انسٹی ٹیوٹ ( آئی ڈی آئی) اور چین کے کرامائے آربیٹریشن کمیشن (کے اے سی) نے سول اور تجارتی تنازعات کےقانونی وثالثی کے ذریعے حل کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

کرامائے آربیٹریشن کمیشن چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر کرامائے میں قائم ایک علاقائی ثالثی ادارہ ہے جو بنیادی طور پرتجارت،سرمایہ کاری، تعمیرات اور توانائی کے شعبوں سے متعلق تنازعات خصوصاً کرامائے کے تیل اور صنعتی شعبوں سے جڑے معاملات نمٹانے کا کام انجام دیتا ہے۔ایم او یو پر دستخط کرامائے آربیٹریشن کمیشن کےسیکرٹری جنرل ڈو یاوے کی موجودگی میں کئے گئےجو بین الاقوامی تعاون کے فروغ اورسنکیانگ سمیت وسیع خطے میں کمیشن کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔انٹرنیشنل ڈسپیوٹ ریزولوشن انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور ایڈوائزری بورڈ کے رکن خالد تیمور اکرم نے معاہدے پر دستخط کئے۔ یہ اقدام بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت ادارہ جاتی روابط کے فروغ اور پاکستان و چین کے درمیان سرحد پار قانونی تعاون کو مضبوط بنانے کے آئی ڈی آئی کے وژن کی توثیق کرتا ہے۔چینی حکومت کےتعاون سے قائم کرامائے آربیٹریشن کمیشن جو ہمسایہ اور بیلٹ اینڈ روڈ ممالک کے لیے ثالثی کا ایک اہم پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے نے خالد تیمور اکرم کو اپنا ثالثی رکن بھی مقرر کیا اور باہمی تعاون کے ایک باضابطہ معاہدے کو حتمی شکل دی۔چین کا سنکیانگ خودمختار خطہ پاکستان، تاجکستان، کرغزستان، قازقستان، افغانستان، منگولیا، روس اور بھارت کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھتا ہےجبکہ کمیشن ان ممالک سے متعلق چینی کاروباری اداروں کے درمیان تجارتی اور سرحد پار تنازعات کے حل میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔یہ معاہدہ چین اور وسطی ایشیا میں آئی ڈی آئی کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی شراکت داری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کےتحت ادارہ جاتی ثالثی، سرحد پار تنازعات کے حل کے نظام کو مؤثر بنانے اور دونوں اداروں کے درمیان قانونی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ایم او یو کے تحت دونوں اداروں نے ادارہ جاتی ثالثی کے فروغ، استعداد کار میں اضافے، تربیتی پروگراموں، علمی و پیشہ ورانہ تبادلوں اور چین۔پاکستان قانونی و اقتصادی راہداریوں میں متبادل تنازعاتی حل (ADR) کے نظام کو فروغ دینے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔توقع ہے کہ یہ شراکت داری جدید ثالثی نظام، قانونی جدت اور خطے میں پائیدار اقتصادی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔