ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کو عالمی اقتصادی نظم و نسق کی تشکیل میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرنا چاہئے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا سعودی پریس ایجنسی کوانٹرویو

اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی ترقی اور مجموعی قومی پیداوار میں ان کے بڑھتے ہوئے حصے کی مناسب عکاسی کیلئے ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کو عالمی اقتصادی نظم و نسق کی تشکیل میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بات سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کو دیئے گئے انٹرویو میں کہی …

اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی ترقی اور مجموعی قومی پیداوار میں ان کے بڑھتے ہوئے حصے کی مناسب عکاسی کیلئے ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کو عالمی اقتصادی نظم و نسق کی تشکیل میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بات سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کو دیئے گئے انٹرویو میں کہی جو انہوں نے ابھرتی ہوئی منڈیوں کی معیشتوں سے متعلق العُلا کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن میں شرکت کے دوران دیا۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ تیزی سے پیچیدہ ہوتے عالمی ماحول میں اجتماعی مکالمے اور مربوط پالیسی اقدامات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کانفرنس کی میزبانی پر مملکتِ سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فورم ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ، تجارتی تقسیم اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیز رفتار تکنیکی تبدیلیاں عالمی منظرنامے کو متاثر کر رہی ہیں۔ یہ پلیٹ فارم وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے لئے ایک بروقت موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ان حالات میں اپنے خیالات اور تجربات کا تبادلہ کر سکیں۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ کانفرنس کے پہلے ایڈیشن کے بعد عالمی منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں جو اس بات کی متقاضی ہیں کہ پالیسی سازوں کے درمیان منظم مگر کھلا مکالمہ جاری رکھا جائے،ایسے پلیٹ فارمز ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ اپنے تجربات سے سیکھیں، حکمتِ عملیوں میں ہم آہنگی پیدا کریں اور عالمی معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے باہمی تعاون کو مضبوط کریں۔ کانفرنس کے افتتاحی سیشنز کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کا عالمی معیشت میں وزن مسلسل بڑھ رہا ہے اور عالمی پیداوار و ترقی میں ان کا بڑھتا ہوا حصہ اب عالمی فیصلہ سازی کے عمل میں زیادہ مؤثر کردار کی صورت میں بھی نظر آنا چاہئے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس نوعیت کے اعلیٰ سطح کے روابط کی اصل اہمیت صرف گفتگو تک محدود نہیں بلکہ عملدرآمد میں مضمر ہے ،یہ محض مباحث تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ سال بھر ان غور و خوض کو ٹھوس پالیسی اقدامات اور مؤثر نفاذ میں تبدیل کرنا اصل مقصد ہونا چاہئے۔ وزیرِ خزانہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ العُلا کانفرنس کے نتائج ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط کریں گے اور ایک زیادہ جامع اور مستحکم عالمی اقتصادی نظام کی تشکیل میں ان کی اجتماعی آواز کو تقویت دیں گے۔