راولپنڈی میں قتل، ڈکیتی، راہزنی اور چوری کی وارداتوں میں اضافہ،شہریوں کا امن و امان کو بہتر کرنے کا مطالبہ

راولپنڈی میں قتل، ڈکیتی، راہزنی، سٹریٹ کرائم، چوری اور نقب زنی کی متعدد وارداتوں نے شہریوں میں خوف و ہراس اور تشویش کی فضا پیدا کردی ہے، مختلف علاقوں میں شہریوں کو لوٹنے، قیمتی اشیا اور موٹر سائیکلیں چھیننے و چوری کرنے سمیت سنگین جرائم کے واقعات میں تسلسل کے باعث شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے

راولپنڈی ۔24اگست (اے پی پی):راولپنڈی میں قتل، ڈکیتی، راہزنی، سٹریٹ کرائم، چوری اور نقب زنی کی متعدد وارداتوں نے شہریوں میں خوف و ہراس اور تشویش کی فضا پیدا کردی ہے، مختلف علاقوں میں شہریوں کو لوٹنے، قیمتی اشیا اور موٹر سائیکلیں چھیننے و چوری کرنے سمیت سنگین جرائم کے واقعات میں تسلسل کے باعث شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔حالیہ ایک ماہ کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں قتل سمیت سنگین جرائم کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں شہریوں کو اسلحہ کے زور پر لوٹنے، راہزنی، موٹر سائیکلیں اور دیگر قیمتی اشیا چوری کرنے، گھروں میں نقب زنی اور سٹریٹ کرائم کی وارداتیں شامل ہیں۔ مسلسل سامنے آنے والے واقعات کے باعث شہری حلقوں میں تشویش بڑھتی جارہی ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس کی کارروائیاں اس رفتار اور مؤثریت سے نظر نہیں آرہیں جس کی موجودہ صورتحال میں ضرورت ہے۔حالیہ دنوں میں ڈکیتی، راہزنی اور چوری کی وارداتیں بھی شہریوں کے لیے باعث تشویش بنی ہوئی ہیں۔ مختلف علاقوں میں شہریوں سے موبائل فونز، نقدی، موٹر سائیکلیں اور دیگر قیمتی اشیا چھیننے اور چوری کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ گھروں اور دیگر مقامات پر نقب زنی کی وارداتوں نے بھی شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پولیس کی جانب سے مختلف کارروائیوں میں جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری اور مسروقہ سامان کی برآمدگی کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ انفرادی کارروائیوں کے باوجود جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اور مستقل حکمت عملی کے نتائج واضح طور پر نظر نہیں آرہے اور وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔گزشتہ روز راولپنڈی پولیس نے سٹریٹ کرائم، چوری اور نقب زنی میں ملوث پانچ گینگز کے سات ملزمان گرفتار کرکے ایک رکشہ، پانچ موٹر سائیکلیں، نو موبائل فونز، نقدی اور اسلحہ برآمد کیا۔ نیوٹاؤن، پیرودھائی، صدر بیرونی اور گوجرخان کے علاقوں میں مختلف کارروائیوں کے دوران ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔اس سے قبل مورگاہ پولیس نے بیرون ملک سے واپس آنے والے شہریوں کو لوٹنے والے تین رکنی بین الاضلاعی گینگ کو گرفتار کرکے ایک کروڑ تین لاکھ روپے مالیت کا مسروقہ سامان برآمد کیا تھا، جس میں 22 موبائل فونز، 15 لیپ ٹاپس، 100 ایئرپوڈز اور 100 گھڑیاں شامل تھیں۔راولپنڈی پولیس نے سٹریٹ کرائم اور موٹر سائیکل چوری میں ملوث دو رکنی گینگ کو بھی گرفتار کرکے پانچ مسروقہ موٹر سائیکلیں اور وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کیا، جبکہ پولیس مقابلے کے دوران قتل، ڈکیتی اور گاڑیوں کی چوری سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب ایک ڈاکو بھی ہلاک ہوا۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران قتل کے تقریباً چھ واقعات سمیت ڈکیتی، راہزنی، چوری اور نقب زنی کی متعدد وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔پیر 24 اگست کو تھانہ صدر بیرونی کے علاقے اڈیالہ روڈ پر ارسلان نامی شہری کو سرعام فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔قبل ازیں تھانہ ٹیکسلا کے علاقے میں ایک ٹک ٹاکر خاتون کو بھی سرعام گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ راولپنڈی میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے راولپنڈی پولیس میں پیشہ ور، اہل اور جرائم پر قابو پانے کی صلاحیت رکھنے والے افسران تعینات کیے جائیں اور پولیس کی کمانڈ و نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ راولپنڈی جیسے اہم شہر میں امن و امان کی صورتحال کو معمول پر رکھنے کے لیے پولیس گشت میں اضافہ، جرائم کے ہاٹ سپاٹس کی مؤثر نگرانی، فوری ردعمل کے نظام کو بہتر بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔