رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے دستور سِوک لیبز کے شرکاء کے لیے ایک خصوصی پارلیمانی سیشن کی میزبانی کی

ینگ پارلیمنٹرینز فورم کی صدر اور رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں دستور سِوک لیبز کے شرکاء کے لیے ایک خصوصی پارلیمانی سیشن کی میزبانی کی۔پیر کویہ سیشن ینگ پارلیمنٹرینز فورم نے ایڈلیٹیکا کے تعاون سے منعقد کیا، جس کا مقصد نوجوان شرکاء کو پارلیمنٹیرینز سے براہِ راست تبادلہ خیال، پارلیمنٹ، آئین اور جمہوری طرزِ حکمرانی کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کا موقع …

اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):ینگ پارلیمنٹرینز فورم کی صدر اور رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں دستور سِوک لیبز کے شرکاء کے لیے ایک خصوصی پارلیمانی سیشن کی میزبانی کی۔پیر کویہ سیشن ینگ پارلیمنٹرینز فورم نے ایڈلیٹیکا کے تعاون سے منعقد کیا، جس کا مقصد نوجوان شرکاء کو پارلیمنٹیرینز سے براہِ راست تبادلہ خیال، پارلیمنٹ، آئین اور جمہوری طرزِ حکمرانی کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز (پشاور اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ نے سیشن میں شرکت کی۔

طلبہ نے سیدہ نوشین افتخار اور وائی پی ایف کے جنرل سیکریٹری و رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی سے گفتگو کی۔ سیشن کی نظامت قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اسپیشل سیکرٹری (اسپیشل انیشی ایٹوز) سید شمعون ہاشمی نے کی۔شرکاء کو آئین پاکستان کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جس میں آرٹیکل 50 کے تحت پارلیمنٹ کی تشکیل، آرٹیکل 25-اے کے تحت تعلیم کے حق اور آرٹیکل 37 (ای) کے تحت عوام کی سماجی و معاشی فلاح و بہبود کے فروغ سے متعلق آئینی دفعات پر روشنی ڈالی گئی۔انہیں ینگ پارلیمنٹرینز فورم، ویمنز پارلیمانی کاکس ، پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال اور پائیدار ترقی کے اہداف سے متعلق پارلیمانی ٹاسک فورس کے کردار اور ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

سیشن میں پاکستان کے آئینی ڈھانچے کی تشکیل، پاکستان کے اسلامی جمہوریہ کے طور پر قیام کے پس منظر، آئین سازی کے عمل اور آئینی و پارلیمانی ترقی میں پاکستانی خواتین کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا۔شرکاء کو آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی اور انہیں ترغیب دی گئی کہ وہ ان حقوق کو نہ صرف قانونی تحفظ بلکہ معاشرے میں ادا کی جانے والی ذمہ داریوں کے طور پر بھی سمجھیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے آئینی شعور اور ذمہ دار شہری بننے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو آئین کو سمجھنا اور قوانین کے نفاذ میں تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے قانونی احتساب اور قانون کی حکمرانی کے احترام کی اہمیت بھی اجاگر کی۔انہوں نے وائی پی ایف کے مقاصد اور نوجوان پارلیمنٹرینز کو نوجوانوں سے جوڑنے کے لیے فورم کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے صوبائی اور قانون ساز اسمبلیوں میں وائی پی ایف کے صوبائی چیپٹرز کے قیام کے لیے کیے گئے مشاورتی دوروں کا بھی ذکر کیا۔سیدہ نوشین افتخار نے جامعات میں منعقد ہونے والی یوتھ کچہریوں کا بھی ذکر کیا، جہاں طلبہ کو نوجوان پارلیمنٹرینز سے براہِ راست ملاقات اور اپنے مسائل پر گفتگو کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے شرکاء پر زور دیا کہ وہ معلومات کی تصدیق کریں اور غلط معلومات اور غیر مصدقہ بیانیوں سے محتاط رہیں۔وائی پی ایف کے جنرل سیکریٹری نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور تجربات کا ذکر کیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں، اپنے کیریئر کو ترقی دیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

بلوچستان کے نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انہیں نفرت اور تقسیم پر مبنی بیانیوں سے دور رہنے اور لسانی پروپیگنڈے اور انتہا پسند قوم پرستی سے محتاط رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان مختلف اور متنوع برادریوں کا مسکن ہے۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور علم، تعمیری مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کریں۔سیشن میں سوال و جواب کا مرحلہ بھی شامل تھا، جس کے دوران طلبہ نے پارلیمنٹرینز کے ساتھ آئینی دفعات اور نوجوانوں سے متعلق مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔تقریب کے اختتام پر انعامات تقسیم کیے گئے۔ وائی پی ایف کی صدر سیدہ نوشین افتخار اور جنرل سیکریٹری وائی پی ایف نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے آئین، اقلیتی حقوق اور عوامی مسائل پر مبنی یونیورسٹی منصوبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے۔