اب کوئی محکمہ صنعت کاروں کو ہراساں نہیں کر سکے گا، فیڈمک میں ایکسپو سنٹر سمیت بڑے صنعتی منصوبوں شروع کئے جائیں گے، صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین

فیصل آباد۔ 31 دسمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پنجاب میں اب کوئی بھی سرکاری محکمہ صنعت کاروں کو ہراساں نہیں کر سکے گا جبکہ حکومت فیڈمک میں جدید طرز کے ایکسپو سنٹر سمیت بڑے صنعتی منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر صنعتی زونز میں سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تحفظ اور برآمدات میں اضافے …

فیصل آباد۔ 31 دسمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پنجاب میں اب کوئی بھی سرکاری محکمہ صنعت کاروں کو ہراساں نہیں کر سکے گا جبکہ حکومت فیڈمک میں جدید طرز کے ایکسپو سنٹر سمیت بڑے صنعتی منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر صنعتی زونز میں سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تحفظ اور برآمدات میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

وہ ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کے دورے کے موقع پر بزنس کمیونٹی سے خطاب کر رہے تھے جہاں انہوں نے صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے ماحول، برآمدات، ایس ایم ای سیکٹر اور حکومتی اصلاحات پر تفصیلی گفتگو کی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں فیڈمک میں غلط پالیسیوں اور غیر فعال سرمایہ کاری کے باعث مسائل پیدا ہوئے اور بعض عناصر نے صنعتی پلاٹس لے کر صرف قیمتوں میں اضافے کا انتظار کیا، تاہم موجودہ حکومت نے پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اصل اور سنجیدہ صنعت کاروں کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔

چوہدری شافع حسین نے کہا کہ پاکستان میں ویوو موبائل کی مینوفیکچرنگ کا پہلا پلانٹ فیڈمک میں قائم کیا جا رہا ہے جو نہ صرف فیصل آباد بلکہ پورے ملک کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کا تقریباً 30 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور یہ منصوبہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیڈمک کی سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے بڑے اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وہ خود اس بات پر حیران تھے کہ ماضی میں فیڈمک کے گرد مکمل سکیورٹی وال موجود نہیں تھی جسے انہوں نے مکمل کروایا۔

انہوں نے کہا کہ صنعت کاروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ جنوبی پنجاب میں صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بہاولپور میں ریتلی زمین پر سات فیکٹریاں قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ شیخوپورہ میں اڑھائی سو ایکڑ پر گارمنٹ سٹی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو بھی نظرانداز نہیں کر رہی اور کپاس کے کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیاں کی جا رہی ہیں تاکہ زرعی شعبے کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آسان کاروبار سکیم کے تحت صنعت کاروں اور نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے جبکہ ٹیوٹا کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے اور ٹیکنیکل لیبارٹریز کو جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ ہنرمند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔

چوہدری شافع حسین نے فیصل آباد میں ایکسپو سینٹر نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ فیڈمک میں ایکسپو کے لیے 50 ایکڑ اراضی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اس منصوبے کے لیے وفاقی حکومت فنڈنگ فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپو سینٹر کے قیام سے فیصل آباد کی صنعتی شناخت مزید مضبوط ہو گی اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے صنعت کاروں کو یقین دلایا کہ وہ جلد ایک جامع اجلاس بلائیں گے جس میں تمام متعلقہ محکمے شریک ہوں گے اور کسی کو بھی صنعت کاروں کو بلاجواز تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد مرحوم نے بھی ہمیشہ صنعت کاروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا اور وہ اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

اس موقع پر صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ صوبائی وزیر کی وزارت کے بعد فیڈمک میں واضح بہتری نظر آ رہی ہے، تاہم بزنس کمیونٹی کو اب بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں اور صنعت کاروں کے درمیان اعتماد کی کمی، ریفنڈز کی عدم ادائیگی، حکومتی پالیسیوں میں رکاوٹیں اور غیر ضروری چیکنگ صنعتی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ایکسپورٹ کنٹینرز کو عزت دی جاتی ہے مگر یہاں کلیئر ہونے کے باوجود کنٹینرز روکے جاتے ہیں جبکہ 40 فیصد سے زائد انڈسٹری اس وقت خسارے میں چل رہی ہے۔ انہوں نے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے جامع پالیسی، فیڈمک میں ون ونڈو آپریشن، ڈرائی پورٹ کا ایک ٹرمینل فیڈمک میں قائم کرنے اور صنعت کے لیے سہولتوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ، نائب صدر انجینئر عاصم منیر، چیمبر کے ایگزیکٹو ممبران اور دیگر نمائندہ صنعت کاروں نے بھی شرکت کی اور مختلف تجاویز پیش کیں۔