اخراجات کی محتاط منصوبہ بندی اور ٹیکس پالیسیز سے آٹومیشن کی وجہ سے پیدا ہونے والی عدم مساوات کو کم کیا جا سکتا ہے، آئی ایم ایف

اسلام آباد۔15اپریل (اے پی پی):عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ اخراجات کی محتاط منصوبہ بندی اور ٹیکس پالیسیز سے آٹومیشن کی وجہ سے پیدا ہونے والی عدم مساوات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی رپورٹ ''شیئرنگ دی گینز آف آٹومیشن، دی رول آف فسکل پالیسی'' میں کہا ہے کہ حالیہ چند دہائیوں کے دوران دنیا کے کئی ممالک …

اسلام آباد۔15اپریل (اے پی پی):عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ اخراجات کی محتاط منصوبہ بندی اور ٹیکس پالیسیز سے آٹومیشن کی وجہ سے پیدا ہونے والی عدم مساوات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی رپورٹ ”شیئرنگ دی گینز آف آٹومیشن، دی رول آف فسکل پالیسی” میں کہا ہے کہ حالیہ چند دہائیوں کے دوران دنیا کے کئی ممالک میں آٹومیشن کی وجہ سے مستحکم معاشی ترقی ہوئی ہے اور دوسری جانب اس سے عدم مساوات بھی بڑھی ہے۔

عالمی ادارہ نے کہا ہے کہ آٹومیشن کے نتیجہ میں کم ہنرمند افراد متاثر ہوتے ہیں جس سے عدم مساوات کے مسائل جنم لیتے ہیں تاہم دوسری جانب سرمایہ کار کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ آٹومیشن کے آئندہ مرحلہ میں روبوٹس کے استعمال سے مسائل ماضی کے مقابلہ میں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے تجویز پیش کی ہے کہ درست زری پالیسیز، حکومتی اخراجات اور ٹیکس کی پالیسیوں سے اقتصادی بڑھوتری اور عدم مساوات کے مسائل پر قابو پانے میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے تاہم اس حوالہ سے صرف متوازن زری پالیسی بھی موثر ثابت نہیں ہو سکتی۔