بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کاچیف جسٹس پاکستان کے ہمراہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پبلک فیسلی ٹیشن سینٹر کا دورہ

بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کاچیف جسٹس پاکستان کے ہمراہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پبلک فیسلی ٹیشن سینٹر کا دورہ

اسلام آباد۔4جولائی (اے پی پی):بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ نے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے زیرِ اہتمام 2 جولائی کو منعقدہ قومی کانفرنس برائے اصلاحاتِ جیل میں شرکت کے بعد ہفتہ کو چیف جسٹس پاکستان کی موجودگی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے پبلک فیسلی ٹیشن سینٹر (پی ایف سی) کا دورہ کیاجہاں انہیں عوامی خدمت کی فراہمی اور انصاف تک رسائی بہتر بنانے کے لیے سپریم کورٹ کی جاری ادارہ جاتی اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔وزرائے اعلیٰ کو پبلک فیسلی ٹیشن سینٹر کے شہری دوست ’’ون ونڈو‘‘سروس ماڈل سے آگاہ کیا گیا،

جس کے تحت مختلف عدالتی خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جا رہی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس نظام کے ذریعے عدالتی کارروائیوں کو آسان بنایا گیا ہے، درخواستوں پر کارروائی کا دورانیہ کم ہوا ہے اور انصاف کی فراہمی کو زیادہ شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنایا گیا ہے۔وفد نے مرکز کے مختلف شعبوں کا تفصیلی دورہ کیا، جن میں انفارمیشن اینڈ کاپی ڈیسک، انسٹی ٹیوشن ڈیسک، انسٹی ٹیوشن آفیسر کا دفتر، بینکاری اور ڈاک کی سہولیات، ای پیمنٹ سپورٹ سروسز اور دیگر عوامی خدمت کے یونٹس شامل تھے۔ انہیں مربوط ڈیجیٹل ورک فلو کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جس کے ذریعےدرخواستوں پر بروقت کارروائی، شفافیت، جوابدہی اور مؤثر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزرائے اعلیٰ کوسپریم کورٹ کی وسیع تر ڈیجیٹل اصلاحات سے بھی آگاہ کیا گیاجن میں عدالتی فیسوں کی ادائیگی کے لیے ای پیمنٹ سسٹم کا اجرا شامل ہے، جس نے روایتی ادائیگی کے طریقہ کار کی جگہ ایک محفوظ اور جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا ہے۔ بریفنگ کے مطابق یہ اقدامات عدالتی نظام کی جدید خطوط پر استواری، انتظامی استعداد میں اضافے اور انصاف کی فراہمی پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔دورے کے دوران وزرائے اعلیٰ نے پبلک فیسلی ٹیشن سینٹر کے افسران اور عملے سےملاقات کی اور سپریم کورٹ کی اصلاحاتی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے شہری مرکزیت، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر انتظامی نظام کو انصاف کی فراہمی کو زیادہ آسان، تیز رفتار اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اہم قرار دیا۔