اسلام آباد۔26مئی (اے پی پی):معروف صدا کار، عہد ساز اور مشہور ادا کار طلعت حسین کی برسی منگل 26 مئی کو منائی گئی ۔وہ 1940 میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی وجہ شہرت فنِ صداکاری ہے۔ انھوں نے ریڈیو ڈراموں اور بے شمار کمرشل /اشتہارات میں بھی صداکاری کی۔طلعت حسین کا تعلق پڑھے لکھے اور روشن خیال گھرانے سے تھا۔بچپن میں انھیں گائیکی،مصوری اور کرکٹ کا شوق تھا ۔ …
ادا کار طلعت حسین کی برسی منگل کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔26مئی (اے پی پی):معروف صدا کار، عہد ساز اور مشہور ادا کار طلعت حسین کی برسی منگل 26 مئی کو منائی گئی ۔وہ 1940 میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی وجہ شہرت فنِ صداکاری ہے۔ انھوں نے ریڈیو ڈراموں اور بے شمار کمرشل /اشتہارات میں بھی صداکاری کی۔طلعت حسین کا تعلق پڑھے لکھے اور روشن خیال گھرانے سے تھا۔بچپن میں انھیں گائیکی،مصوری اور کرکٹ کا شوق تھا ۔
ان کے والد تقسیمِ ہندسے پہلے سرکاری ملازم تھے اور والدہ ریڈیو پر شوقیہ پروگرام کیا کرتی تھیں۔جب طلعت حسین کی عمر 3 سال تھی تو اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان منتقل ہو گئے ۔ انہوں نے نو عمری میں ہی ریڈیو پاکستان کے پروگرام ’’اسکول براڈ کاسٹ ‘‘ سے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا اور پھرانہوں نے سٹوڈیو 9 میں کام شروع کر دیا۔ طلعت حسین نے انگلش لٹریچر میں گریجو ایشن کی اور تھیٹر آرٹس میں لندن اکیڈمی آف میوزک اینڈ ڈرامیٹک آرٹ سے ٹریننگ حاصل کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔انہوں نے اپنے کیرئر کا آغاز سینما میں گیٹ کیپر کے طور پر کیا۔ بعد ازاں جب سینما کے مالک کو ان کے انگریزی بولنے کی قابلیت کا علم ہوا تو اس نے انھیں گیٹ بکنگ کلرک بنا دیا، یہ ان کی زندگی کی پہلی ترقی تھی۔انھوں نے ایکٹنگ کی تعلیم بھی لندن میں حاصل کی۔ انھوں نے بیرون ملک بھی کئی چینلز پر اداکاری کی، 1971ء کی جنگ کے دوران ریڈیو پروگرام ’’کیا کرتے ہو مہاراج‘‘ کا آغاز کیا جو جنگ ختم ہونے تک جاری رہا۔ پاکستان ٹیلی وژن پر انھوں نے کام کا آغاز 1967 سے کیا۔ طلعت حسین اداکاری کے شعبے میں اکادمی کا درجہ رکھتے ہیں۔ نیشنل اکادمی آف پرفارمنگ آرٹ میں آپ کی خدمات قابل قدر ہیں ۔ طلعت حسین نے ٹی وی ڈراموں ارجمند ،آنسو،طارق بن زیاد،بندش،دیس پردیس،عید کا جوڑا،فنون لطیفہ،ہوائیں،اک نئے موڑ پہ،پرچھائیاں،دی کاسل – ایک امید،ٹائپسٹ،انسان اور آدمی،رابطہ،نائٹ کانسٹیبل،درد کا شجر اور کشکول میں اداکاری کے جوہر دکھانے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی چینلز میں بھی کام کیا۔ اس کے علاوہ کئی ڈاکومینٹریز اور قرآن پاک کا اردو ترجمہ بھی ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے فلم چراغ جلتا رہا،گمنام،انسان اور آدمی،جناح،امپورٹ-ایکسپورٹ ،لاج،قربانی،سوتن کی بیٹی ،اشارہ،آشنا،بندگی اور محبت مر نہیں سکتی میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔طلعت حسین کو ایمنڈا ایوارڈ،بہترین معاون اداکارایوارڈ، نگار ایوارڈ اور تمغہ حسن کارکردگی سمیت ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ طلعت حسین 26 مئی 2024 کو کراچی میں 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔طلعت حسین کی شخصیت کے حوالہ سے اداکارہ ہما میر نے ’’ یہ ہیں طلعت حسین‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی تحریر کی جسے آرٹس کونسل کراچی نے شائع کیا ہے ۔ ان کی برسی کے موقع پر شو بز انڈسٹری۔ اداکار اور صدا کار برادری سمیت مداحوں کی جانب سے بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔







