ادب معاشرے کی فکری اور اخلاقی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اورنگزیب خان کھچی

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی نے ملک بھر کی ادبی تنظیموں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ادب معاشرے کی فکری اور اخلاقی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے یہ بات پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز (پی اے ایل) کے شیخ ایاز کانفرنس ہال میں نوجوان لکھاریوں کے لیے دوسرے …

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی نے ملک بھر کی ادبی تنظیموں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ادب معاشرے کی فکری اور اخلاقی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے یہ بات پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز (پی اے ایل) کے شیخ ایاز کانفرنس ہال میں نوجوان لکھاریوں کے لیے دوسرے دس روزہ بین الصوبائی رہائشی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ لکھاری قوم کو درست راستہ دکھانے اور معاشرتی شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اسی لیے حکومت ادب کے فروغ کے لیے کام کرنے والے اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔اس موقع پر چیئرپرسن پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ڈاکٹر نجیبہ عارف نے جنوبی پنجاب سے مزید لکھاریوں کو سامنے لانے اور ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ مشکلات کے باوجود جدوجہد جاری رکھنی چاہیے کیونکہ اصل صلاحیت پانی کی طرح اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔ انہوں نے نئے ادبی ٹیلنٹ کی تلاش اور تربیت کے لیے پی اے ایل کی کاوشوں کو سراہا اور مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی ادبی اداروں کے فروغ کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اہل قلم کی فلاح و بہبود کے اقدامات کا بھی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ لکھاریوں کے اعزازیے کو 25 ہزار روپے تک بڑھانے کے لیے وزیر اعظم آفس کو سمری ارسال کی جا چکی ہے جس میں آئندہ مزید اضافے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

انہوں نے آخر میں معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام میں منتخب ہونے والے 20 نوجوان لکھاریوں کو خوش آمدید کہا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزارت ثقافت ملک کے ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔معروف شاعر افتخار عارف نے کہا کہ کسی بھی زبان میں لکھی جانے والی تحریر پاکستانی ادب کا حصہ ہے اور تمام زبانوں کو یکساں احترام ملنا چاہیے۔

انہوں نے ابھرتے ہوئے لکھاریوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنی زمین، اپنے عہد اور اپنی زبان پر توجہ دیں کیونکہ حقیقی تبدیلی صرف اہل قلم ہی لا سکتے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے زیر اہتمام 15 سے 24 جنوری 2026ء تک نوجوان لکھاریوں کے لیے دوسرے دس روزہ بین الصوبائی رہائشی پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔

پروگرام کا بنیادی مقصد دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے لکھاریوں کو قومی ادبی دھارے سے متعارف کرانا، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا اور دارالحکومت کے ثقافتی ماحول میں نئے ادبی امکانات تلاش کرنا ہے جبکہ مختلف خطوں کے لکھاریوں کے مابین اتحاد، ہم آہنگی اور فکری تبادلے کو فروغ دینا بھی اس کا اہم ہدف ہے۔

پروگرام کے تحت شریک لکھاری پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے گیسٹ ہائوس میں قیام کریں گے اور مختلف ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے جن میں ادبی تقاریب، تعلیمی و ادبی اداروں کے دورے، نامور ادبی شخصیات سے ملاقاتیں اور اپنی تخلیقات پیش کرنے کے مواقع شامل ہیں۔ چاروں صوبوں سے منتخب کیے گئے 20 لکھاری اس پروگرام میں شریک ہیں جو 24 جنوری کو اختتام پذیر ہوگا۔