لاہور ہائیکورٹ نے نوشہرہ ورکاں میں ٹھیکے پر حاصل کی گئی 84 ایکڑ اراضی کے قبضے میں پولیس مداخلت کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کی گرفتاری سے روکتے ہوئے حکمِ امتناعی جاری کر دیا
اراضی کے قبضے میں مداخلت کیس، لاہور ہائیکورٹ کا سی سی پی او کو فریقین کو دوبارہ سن کر معاملے کی انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم

مزید خبریں
لاہور۔22جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے نوشہرہ ورکاں میں ٹھیکے پر حاصل کی گئی 84 ایکڑ اراضی کے قبضے میں پولیس مداخلت کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کی گرفتاری سے روکتے ہوئے حکمِ امتناعی جاری کر دیا اور سی سی پی او کو فریقین کو دوبارہ سن کر معاملے کی انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 جولائی تک ملتوی کر دی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت کے دوران پولیس حکام کی کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ پولیس سول نوعیت کے اراضی تنازعات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ سماعت کے دوران سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر غیاث عدالت میں پیش ہوئے تاہم چیف جسٹس نے ان کی طلبی کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے سرزنش کی۔
عدالت نے اس امر پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ اراضی کی نشاندہی اور دستاویزات کی مکمل جانچ کے بغیر کارروائی کیسے کی گئی۔سی پی او گوجرانوالہ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے محکمہ مال کی رپورٹ اور اسسٹنٹ کمشنر سے کروائی گئی ویری فکیشن کی بنیاد پر کارروائی کی، جبکہ محکمہ مال میں اراضی کی متعلقہ انٹری بھی منسوخ ہو چکی ہے۔ تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ مناسب تھا پولیس صرف موصول ہونے والی شکایت تک محدود رہتی اور سول تنازع میں مداخلت نہ کرتی۔عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی حکمِ امتناعی کے باوجود مقدمہ درج کیے جانے کے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا اور سی سی پی او فریقین کو دوبارہ سن کر تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے۔








