پشاور۔ 13 جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ کی متنازع شقوں پر سامنے آنے والے عوامی، صحافتی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے تحفظات کے بعد حکومت نے انہیں واپس لینے اور دوبارہ جائزے کے لیے پریولیجز کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ گزشتہ کئی روز …
اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ کی متنازع شقوں پر تحفظات کے بعد حکومت کا انہیں واپس لینے و دوبارہ جائزے کےلئے پریولیجز کمیٹی کے سپرد کرنیکا فیصلہ

مزید خبریں
پشاور۔ 13 جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ کی متنازع شقوں پر سامنے آنے والے عوامی، صحافتی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے تحفظات کے بعد حکومت نے انہیں واپس لینے اور دوبارہ جائزے کے لیے پریولیجز کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ پر بحث جاری تھی جبکہ صحافی برادری، عوام اور پی ٹی آئی کے ووٹرز نے بھی اس قانون کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا۔صوبائی وزیر کے مطابق انہی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کابینہ کے اجلاس میں معاملے کا جائزہ لیا اور سپیکر صوبائی اسمبلی سے مشاورت کے بعد قابل اعتراض شقیں واپس لینے کی ہدایت کی۔انہوں نے بتایا کہ اسی سلسلے میں سپیکر صوبائی اسمبلی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے قائدین اور قائد حزب اختلاف نے شرکت کی۔
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ متنازع شقیں دوبارہ پریولیجز کمیٹی کو بھجوائی جائیں، جہاں ایک ہفتے کے اندر ان کا جائزہ لے کر انہیں 1988 کے اصل ایکٹ کے مطابق درست اور بحال کیا جائے گا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، اسی لیے صحافی برادری اور عوام بھی اپنی تجاویز پریولیجز کمیٹی کو پیش کر سکتے ہیں۔شفیع جان کا کہنا تھا کہ 1988کے قانون اور نئے ایکٹ کی زیادہ تر شقیں ایک جیسی ہیں، صرف بلیو پاسپورٹ سے متعلق شق مختلف تھی تاہم کابینہ سے منظور شدہ شق میں نہ بچوں، نہ شریک حیات اور نہ ہی تاحیات بلیو پاسپورٹ کی کوئی سہولت شامل تھی۔انہوں نے بتایا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے 6 مئی کو اس بل پر دستخط کیے جبکہ 7 مئی کو اس کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا تھا لیکن اس وقت کسی نے اس معاملے پر اعتراض نہیں اٹھایا۔وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے کو لاہور کیس سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے غیر معمولی طور پر اچھالا گیا۔شفیع جان کا کہنا تھا کہ اس کیس کو دبانے نہیں دیا جائے گا اور تحقیقات میں سستی پر تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کو بھی تحفظات ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اور پنجاب میں بھی اسی نوعیت کی ترامیم کی گئی ہیں تاہم وہاں اس طرح کی بحث دیکھنے میں نہیں آئی۔شفیع جان کے مطابق خیبرپختونخوا میں 992 جبکہ ملک بھر میں مجموعی طور پر 56 ہزار بلیو پاسپورٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔







