اراکین پارلیمان کا نوجوانوں کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کےلئے مضبوط سوشل میڈیا قوانین پر زور

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ نے کہا ہےکہ سوشل میڈیا کے معاشرہ اور ملک کے مستقبل کی بہتری کےلئے استعمال کو یقینی بنانے کےلئے فوری اور ذمہ دارانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہفتہ کو ایک مقامی نیوز چینل کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اراکین نے نوجوان طبقہ کے تحفظ کےلئے سوشل میڈیا قوانین کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ایسے ضوابط …

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ نے کہا ہےکہ سوشل میڈیا کے معاشرہ اور ملک کے مستقبل کی بہتری کےلئے استعمال کو یقینی بنانے کےلئے فوری اور ذمہ دارانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہفتہ کو ایک مقامی نیوز چینل کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اراکین نے نوجوان طبقہ کے تحفظ کےلئے سوشل میڈیا قوانین کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے ایسے ضوابط نافذ کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں اور آئندہ نسلوں کو ممکنہ نقصانات سے بھی محفوظ رکھیں۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اس حوالے سے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے ، اس حوالے سے حکومت بھرپور حکمت عملی کے تحت جامع اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور اطلاعات کی وزارتیں صورتحال سے نمٹنے کےلئے بروقت اقدامات پر متفق ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنانا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچے سوشل میڈیا کی بجائے اپنی پڑھائی اور مستقبل پر توجہ دیں۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ضرورت سے زیادہ نمائش کی وجہ سے صحیح اور غلط میں تمیز کرنےکی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر سید حفیظ الدین نے آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا قوانین وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے شہریوں اور بالخصوص نوجوان طبقہ کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانے کےلئے دیگر ممالک کی طرح کے اقدامات کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

رکن قومی اسمبلی سید رفیع اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کےلئے سوشل میڈیا کے استعمال کےلئے عمر کی حد مقرر کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کےلئے محفوظ ماحول اور ان کی فلاح وبہبود کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ پی ٹی آئی کی سینیٹر مشال یوسفزئی نے کہا کہ سوشل میڈیا کے استعمال کےلئے عمر کا واضح تعین ہونا چاہئے اور سوشل میڈیا پر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمر کی بنیاد پر سوشل میڈیا تک رسائی کو منظم کرنے سے نوجوانوں کی حفاظت اور ان پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ تمام اراکین پارلیمنٹ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سوشل میڈیا نوجوان طبقہ پر اہم نفسیاتی اثرات مرتب کر رہا ہے جس سے ان کی توجہ اور فیصلہ سازی کی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا بھر کے کئی ممالک اس حوالے سے پہلے ہی قانون سازی کر چکے ہیں اور اب وقت ہے کہ پاکستان بھی ان کی پیروی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کےلئے عمر کی حد اور حفاظتی قوانین انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔