اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجواناں عثمان ڈار نے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے کامیاب جوان پروگرام شروع کیا ہے، اب تک نوجوانوں میں 2 ارب روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں اور اگلے چھ ماہ کے دوران 10 ارب روپے تقسیم کئے جائیں گے، اسحاق ڈار کا بیان …
اسحاق ڈار کا بیان ہر پاکستانی کیلئے شرمندگی کا باعث ہے، وہ انٹرویو دے کر بری طرح بے نقاب ہوئے ہیں، معاون خصوصی امور نوجواناں عثمان ڈار

مزید خبریں
اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجواناں عثمان ڈار نے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے کامیاب جوان پروگرام شروع کیا ہے، اب تک نوجوانوں میں 2 ارب روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں اور اگلے چھ ماہ کے دوران 10 ارب روپے تقسیم کئے جائیں گے، اسحاق ڈار کا بیان ہر پاکستانی کیلئے شرمندگی کا باعث ہے، وہ انٹرویو دے کر بری طرح بے نقاب ہوئے ہیں، حکومت نواز شریف کو واپس لانے کیلئے تمام تر قانونی اور سفارتی آپشنز استعمال کر رہی ہے، اپوزیشن کا مشن ملک میں کورونا پھیلانا ہے، قوم ان کا تماشا دیکھ رہی ہے اور وہی ان کا احتساب کرے گی، حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے۔ بدھ کو پی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے اور کاروبار کو بڑھانے کیلئے 100 ارب روپے مختص کئے ہیں، اس سلسلے میں انہیں ایک لاکھ سے ڈھائی کروڑ تک آسان شرائط پر قرضے دیئے جا رہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نوجوان کسی بھی بینک سے شخصی گارنٹی پر ایک سے دس لاکھ روپے تک قرضہ لے سکتے ہیں۔ عثمان ڈار نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں، سارا پروگرام ویب پر آئن لائن ہے اور میرٹ کی بنیاد پر نوجوانوں کو قرضے دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو کوئی بھی ہنر سیکھنے اور آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسکلز سکالر شپ کے تحت50 ہزار روپے دیئے جاتے ہیں، جدید ٹیکنالوجی سے نوجوان پانچ سو سے پانچ ہزار روپے تک کی آمدن حاصل کر سکیں گے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم ٹائیگر ریلیف فورس نے کورونا بحران اور شجرکاری مہم کے دوران زبردست کام کیا جس میں میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا انٹرویو ہر پاکستانی کیلئے شرمندگی کا باعث ہے، انہوں نے اپنی جائیدادوں کے حوالے سے بھی جھوٹ بولا، لاہور کی پراپرٹی کے حوالے سے اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ وہ ان کی ذاتی پراپرٹی ہے جبکہ ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ وہ گھر انہیں تحفے میں ملا تھا، اسحاق ڈار اور ان کی اہلیہ کے بیانات نہیں مل رہے، یہ بری طرح عوام کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں۔ عثمان ڈار نے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) ریاست مخالف بیانیے کی وجہ سے عوام کے سامنے بے نقاب ہو گئی ہے، یہ لوگ جلسے کر کے ملک میں کورونا پھیلا رہے ہیں اور عوام خود ان کا احتساب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں ہمارے ملک میں این آر او دینے کا کلچر چلتا رہا ہے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے قائدین ڈیل کر کے این آر او لیتے رہے ہیں تاہم وزیراعظم عمران خان کسی صورت میں بدعنوان عناصر کو این آر او نہیں دیں گے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، وزیراعظم عمران خان نے انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن کو دعوت دی ہے تاکہ آئندہ انتخابات شفاف ہوں، اپوزیشن نے پارلیمنٹ کو مچھلی منڈی بنایا ہوا ہے، ان لوگوں کو چاہیے کہ کیسز کو عدالتوں میں دیکھیں اور پارلیمنٹ میں آ کر عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل گیارہ جماعتیں مل کر بھی اکیلے وزیراعظم عمران خان جتنا بڑا جلسہ نہیں کر سکتیں، یہ لوگ جلسہ جلسہ کھیل رہے ہیں تاہم حکومت کو ان کے جلسوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ عثمان ڈار نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے دو مرتبہ پارلیمنٹری کمیٹی کا اجلاس بلایا لیکن اپوزیشن رہنمائوں نے شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنا رہی، ماضی کے حکمران لوٹ مار کرتے ہوئے پکڑے گئے، نواز شریف جس پراپرٹی کا انکار کر رہے تھے آج اسی میں رہ رہے ہیں، انہیں ملکی اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے، وہ اپنی بے گناہی کے ثبوت دیں، اگر وہ بے قصور ہوئے تو انہیں ضرور انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے تمام تر قانونی آپشنز استعمال کر رہی ہے۔








