اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کوبیک وقت اپنی عوامی مقبولیت میں کمی اور جارحانہ کارروائیاں روکنے کے لئے ملکی اور بین الاقوامی دباؤ میں اضافے کے چیلنجز کا سامنا ہے اور یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہو ئی جب ملکی عام انتخابات قریب ہیں ۔
اسرائیلی وزیر اعظم کو عوامی مقبولیت میں کمی اور جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے لئے دباؤ کا سامنا ہے،رپورٹ

مزید خبریں
تل ابیب۔10اپریل (اے پی پی):اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کوبیک وقت اپنی عوامی مقبولیت میں کمی اور جارحانہ کارروائیاں روکنے کے لئے ملکی اور بین الاقوامی دباؤ میں اضافے کے چیلنجز کا سامنا ہے اور یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہو ئی جب ملکی عام انتخابات قریب ہیں ۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا میں جاری سروے رپورٹس کے مطابق 58 فیصد اسرائیلی شہری ایران کے ساتھ جنگ کے دوان حاصل ہونے والی کامیابیوں کے اسرائیلی دعووں کو مشکوک قرار دیتے ہیں، اس کے علاوہ 79 فیصد اسرائیلی شہریوں نے حزب اللہ کے خلاف اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بند کرنے کی حمایت کی ۔
بینجمن نیتن یاہو پر بین الاقوامی سطح پر بھی بالخصوص امریکا کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط پر عملدرآمد کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جرمنی، کینیڈا اور دیگر ممالک کی طرف سے بھی اسرائیل سے کہا جارہا ہے کہ وہ جنگ بندی کی شرائط پر عمل در آمد کرے۔یہ صورتحال بینجمن نیتن یاہو کو انتخابات کے قریب بہت مشکل پوزیشن میں ڈال سکتی ہے کیونکہ اسرائیلی ووٹرز کی بڑی اکثریت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ نیتن یاہوجنگ بندی پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔








