اسرائیل غزہ میں امداد کی ترسیل روک کرانسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے، ایم ایس ایف

جنیوا ۔13مارچ (اے پی پی):انسانی حقوق کے لیے بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی ڈاکٹروں کی تنظیم ایم ایس ایف (ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز) نے کہا ہے کہ اسرائیل اور اس کی فوج غزہ میں اشیائے ضروریہ کو روک کر بنیادی انسانی ضروریات کو روک رہی ہے اور طاقت کے استعمال کو انسانیت کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔العربیہ کے مطابق 'ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز' نے …

جنیوا ۔13مارچ (اے پی پی):انسانی حقوق کے لیے بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی ڈاکٹروں کی تنظیم ایم ایس ایف (ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز) نے کہا ہے کہ اسرائیل اور اس کی فوج غزہ میں اشیائے ضروریہ کو روک کر بنیادی انسانی ضروریات کو روک رہی ہے اور طاقت کے استعمال کو انسانیت کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔العربیہ کے مطابق ‘ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز’ نے اس امر کا اظہار غزہ میں اشیائے ضروریہ کے علاوہ بجلی کی بندش کے حالیہ حکم نامے کے بعد کیا ہے۔

ایم ایس ایف کی ایمرجنسی کو آرڈینیٹر مریم نے کہا کہ اسرائیلی حکام امدادی سامان کی ترسیل روک کر مذاکرات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ انتقامی کارروائی ہے اور یہ انسانیت کے خلاف ہے۔ اسے کبھی بھی جنگی حربے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا نا چاہیے۔واضح رہے 19 جنوری سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی کر کے لاکھوں اہل غزہ کو ضروری اشیاء کی ترسیل کو روکے ہوئے ہے۔

اسرائیل نے یہ صورتحال دوحہ میں مذاکرات کے نئے راؤنڈ سے پہلے پیدا کی ہے۔ایم ایس ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اس غیر انسانی ناکہ بندی کو روکے اور غزہ میں لوگوں تک پانی، ادویات، خوراک اور ایندھن سمیت تمام اشیاء کو بلا روک ٹوک پہنچنے دے۔