واشنگٹن ۔11مارچ (اے پی پی):امریکی عدالت نے اسرائیل کے خلاف احتجاج پر کولمبیا سے گرفتار کیے گئے فلسطینی طالب علم کو ڈی پورٹ نہ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔اردو نیوز کے مطابق گرین کارڈ ہولڈر محمد خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی میں غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف احتجاجی مہم چلائی تھی اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت …
اسرائیل کے خلاف احتجاج، امریکی عدالت نے فلسطینی طالب علم کی ڈی پورٹیشن روک دی

مزید خبریں
واشنگٹن ۔11مارچ (اے پی پی):امریکی عدالت نے اسرائیل کے خلاف احتجاج پر کولمبیا سے گرفتار کیے گئے فلسطینی طالب علم کو ڈی پورٹ نہ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔اردو نیوز کے مطابق گرین کارڈ ہولڈر محمد خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی میں غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف احتجاجی مہم چلائی تھی اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت پکڑا گیا۔
اس گرفتاری کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مزید گرفتاریاں بھی ہوں گی۔ محمد خلیل کو ڈی پورٹ کرنے کی کوشش پر ان کی فیملی نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے ڈی پورٹیشن کوعارضی طور پر روک دیا ، کیس کی آئندہ سماعت کو بدھ کو ہو گی۔ریکارڈ کے مطابق گرفتاری کے بعد محمد خلیل کو لوئیزیاناکی جیل میں بھجواکر ڈی پورٹ کرنے کے پراسس پر عمدرآمد شروع کر دیا گیا تھا۔
اس کے بعد نیویارک شہر میں طالب علم کے حق میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا جبکہ اٹارنی جنرل اور سول لبرٹیز یونین نے بھی اس گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیا ہے۔پیر کو ہونے والی سماعت کے موقع پر ضلعی عدالت کے جج جیسی فورمن نے ڈی پورٹیشن کے عمل کو عدالت کے اگلے احکامات آنے تک روکنے کا حکم دیا۔
محمد خلیل کے وکیل نے عدالت پر زور دیا کہ انہیں واپس نیویارک بھجوایا جائے۔ انہوں نے انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ انہیں نیویارک سے دور بھیج کر قانونی مدد کے پراسس سے دور کرنا چاہتی ہے۔اس گرفتاری کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ تو آغاز ہے، مزید گرفتاریاں بھی ہونے والی ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے محمد خلیل پر کسی جرم کا الزام عائد نہیں کیا گیا ، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکا میں ان کی موجودگی قومی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے خلاف ہے۔
یونیورسٹی کی لیبر یونین سے وابستہ دیگر طلبہ کا کہنا ہے کہ فیڈرل ایجنٹس ایک اور غیر ملکی طالب علم کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ہوم لینڈ ڈیپارٹمنٹ اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے اس الزام کا جواب دینے سے انکار کیا جبکہ محکمہ خارجہ نے کہاکہ امریکی قوانین کے تحت ویزاریکارڈ ایک خفیہ چیز ہے اس لئے محکمہ کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔







