اسلامی تعاون تنظیم کی دو روزہ 9 ویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر ہوگئی، پاکستان نے آئندہ دو سال کے لئے او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی سربراہی سنبھال لی
اسلامی تعاون تنظیم کی دو روزہ 9 ویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر ہوگئی، پاکستان نے آئندہ دو سال کے لئے او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی سربراہی سنبھال لی

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم کی دو روزہ 9 ویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین پیر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوگئی۔ پاکستان نے آئندہ دو سال کے لئے او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی سربراہی سنبھال لی۔ کانفرنس سے چیئرمین سینیٹ اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وفاقی وزیر قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ، اسلامی تعاون تنظیم کے عہدیداروں اور دیگر غیر ملکی مندوبین نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل طارق علی بخیت، سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے آئندہ دو سال کے لئے او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی سربراہی سنبھال لی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کانفرنس کی سربراہی باضابطہ طور پر پاکستان کے حوالے کر دی گئی ہے جو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے پاکستان پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ، رکن ممالک، شراکت دار ممالک، وزراء، وفود کے سربراہان اور دیگر نمائندگان کا شکریہ ادا کیا جن کی فعال شرکت سے دو روزہ کانفرنس کامیاب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اختتامی اجلاس میں کانفرنس کی مشاورت کے نتائج کی منظوری دی گئی جس میں رکن ممالک نے مسلم دنیا میں خواتین کے معاشی، سیاسی اور سماجی اختیارات میں اضافے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو ترقی کے عمل میں مکمل طور پر شامل کیا جائے گا تاکہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ متوازن، خوشحال اور جامع معاشروں کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کانفرنس کے دوران خصوصی نشستوں میں ڈیجیٹل دور کے مواقع اور چیلنجز پر توجہ مرکوز کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک نے عزم کیا ہے کہ خواتین کو جدید مہارتوں اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ وہ اپنی کامیابیوں کو عملی مثالوں میں تبدیل کر سکیں اور اپنے خاندانوں، معاشروں اور قومی معیشتوں میں مؤثر کردار ادا کریں۔ وفاقی وزیر نے وزارت انسانی حقوق کی ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے کانفرنس کے انعقاد کے لئے بھرپور محنت کی۔ انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، سیکرٹری خارجہ سمیت وزارت خارجہ کے تعاون کو بھی سراہا۔ انہوں نے وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران مشترکہ کوششوں سے اس اہم تقریب کی کامیابی کو یقینی بنایا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کانفرنس کے دوران قیادت اور سرپرستی فراہم کرنے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے عوام کو اس اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کی کامیاب میزبانی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے امور سے متعلق او آئی سی کی سربراہی سنبھالنا پاکستان کے لئے ایک اہم موقع ہے تاکہ رکن ممالک کے ساتھ مل کر اسلامی دنیا میں خواتین کی فلاح، ترقی اور مستقبل کے لئے مزید مضبوط پالیسی فریم ورک تیار کئے جاسکیں۔ وفاقی وزیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں اور تعاون کے ذریعے او آئی سی کے رکن ممالک کی خواتین اپنے ممالک اور وسیع تر مسلم دنیا کی ترقی و خوشحالی میں مردوں کے شانہ بشانہ مزید اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔
او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک کے نمائندوں سمیت تقریباً 190 مندوبین شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد مسلم دنیا میں خواتین کو سماجی، اقتصادی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لئے اقدامات اور تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ او آئی سی ممالک میں خواتین کو سماجی، اقتصادی اور سیاسی بااختیار بنانے: چیلنجز اور آگے کا راستہ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں خواتین اور خاندانی امور کے وزراء، اعلیٰ حکومتی نمائندوں، او آئی سی کے ذیلی اداروں کے نمائندگان، بین الاقوامی تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں کے عہدیدار شریک ہوئے۔
میزبان ملک کی حیثیت سے پاکستان نے او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی باقاعدہ طور پر سربراہی سنبھال لی ہے۔ کانفرنس میں خواتین کے معاشی استحکام، ڈیجیٹل شمولیت، تعلیم، قیادت، کاروباری مواقع اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت سمیت اہم امور پر غور کیا گیا جبکہ او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔








