اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):ویمن انٹرپرینیورشپ فنانس (وی فنانس) کوڈ کی مشاورتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بینک دولت پاکستان (ایس بی پی)کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے کہا ہے کہ ہم ایسے راستے تشکیل دے رہے ہیں جو خواتین انٹرپرینیورز کو پاکستان کی معاشی ترقی میں بھرپور شرکت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔انہوں نے ویمن انٹرپرینیورشپ کے فروغ اور انہیں مالیات تک رسائی …
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا خواتین انٹرپرینیورز کو بااختیار بنانے کے لیے وی فنانس کوڈ کے نفاذ کا آغاز

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):ویمن انٹرپرینیورشپ فنانس (وی فنانس) کوڈ کی مشاورتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بینک دولت پاکستان (ایس بی پی)کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے کہا ہے کہ ہم ایسے راستے تشکیل دے رہے ہیں جو خواتین انٹرپرینیورز کو پاکستان کی معاشی ترقی میں بھرپور شرکت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔انہوں نے ویمن انٹرپرینیورشپ کے فروغ اور انہیں مالیات تک رسائی فراہم کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے اسٹیٹ بینک کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ایک جامع اور پائیدار مالی نظام قائم کیا جا سکے، جیسا کہ اس کےسٹریٹیجک پلان 2028ء میں واضح کیا گیا ہے۔
ایس بی پی کے مطابق سلیم اللہ نے برابری پر بینکاری پالیسی اور ڈجیٹل اقدامات کے ذریعے خواتین کی مالی شمولیت کو فروغ دینے کے اسٹیٹ بینک کے مسلسل عزم کو بھی اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مالی خدمات تک رسائی میں بہتری آئی ہے تاہم اب بھی ساختی رکاوٹیں موجود ہیں جو خواتین انٹرپرینیورز کے لیے رسمی قرض کے حصول کے مواقع کو محدود بناتی ہیں۔ اس تناظر میں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وی۔فنانس کوڈ ایک اہم اور قابل عمل فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ کوڈ اسٹیٹ بینک نے 7 جولائی 2025ء کو اختیار کیا تھا۔ اس کا مقصد خواتین کے زیرِ قیادت کاروباری اداروں کو درپیش مالی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ پاکستان میں اس کے نفاذ کے مرکزی ادارے کے طور پر، اسٹیٹ بینک نے 23 مالی اداروں پر مشتمل ایک اتحاد تشکیل دیا ہے ، جن میں روایتی، اسلامی اور مائیکروفنانس بینک شامل ہیں، نیز پاکستان بینک ایسوسی ایشن (پی بی اے ) بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ یہ تمام ادارے کوڈ کے عملی اقدامات پر مبنی فریم ورک کے تحت یکجا ہیں۔پاکستان میں وی فنانس کوڈ کے نفاذ کے باقاعدہ آغاز کے لیے اسٹیٹ بینک نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے اشتراک سے اسلام آباد میں دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔
اس ورکشاپ میں دستخط کنندہ بینکوں، ضابطہ کاروں اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز نے شرکت کی تاکہ ایک ٹھوس قومی ایکشن پلان تیار کیا جاسکے۔ ورکشاپ میں صنفی اعتبار سے حساس مصنوعات کی تیاری، ڈیٹا کے حصول اور رپورٹنگ میں بہتری اور خواتین کے زیرِ قیادت کاروباری اداروں کے لیے کریڈٹ کی جانچ کے موزوں طریقۂ کار کو مضبوط بنانے کی قابلِ عمل حکمتِ عملیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔صنعت کی اس مشاورتی ورکشاپ نے دستخط کنندہ بینکوں اور شراکت دار اداروں کو ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کیا تاکہ خواتین کی مالی وسائل تک رسائی میں موجود خلا کا جائزہ لے سکیں اور وی فنانس کوڈ کے تحت ایک مستقبل بین ایکشن پلان تیار کیا جاسکے۔
گفتگو کا مرکز خواتین کے لیے مارکیٹ کے زمروں کو مضبوط بنانا، خواتین پر مرکوز پورٹ فولیو حکمتِ عملیاں تیار کرنا اور خواتین کے زیرِ قیادت ایم ایس ایم ایز کے لیے قرضوں کی مصنوعات کو بہتر بنانا، ڈیٹا اور رپورٹنگ فریم ورکس کو مؤثر بنانا، نیز وی فنانس کوڈ چارٹر کے ذریعے ادارہ جاتی عزم کو مزید مستحکم کرنا تھا۔ورکشاپ سے قبل، اسٹیٹ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے سینئر حکام پر مشتمل ایک وفد نے مالی شعبے سے باہر اہم ایکو سسٹم اسٹیک ہولڈرز کے لیے وی فنانس کوڈ پر ایک روڈ شو کا انعقاد کیا۔
وفد نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان( ایس ای سی پی)، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)اور اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (اسمیڈا) کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات کیے۔ان مباحثوں میں پالیسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے، اور وی فنانس کوڈ کے لیے معاون قومی اتحاد کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ صنعت بھر میں اس کی رفتار کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ان مربوط کوششوں کے ذریعے، اسٹیٹ بینک پاکستان کے مالی شعبے کو بامعنی مالی شمولیت کی سمت مسلسل رہنمائی فراہم کر رہا ہے ، تاکہ وی فنانس کوڈ ملک بھر میں خواتین کے لیے مالی وسائل تک بہتر رسائی، انٹرپرینیورشپ کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنانے میں مؤثر کردار ادا کرے۔








