افغانستان تاحال بین الاقوامی دہشت گردی کا اہم گڑھ اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے ، عالمی رپورٹس

اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):افغانستان تاحال بین الاقوامی دہشت گردی کا اہم گڑھ اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے جو سرحد پار حملوں، دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی، نظریاتی انتہاپسندی کے فروغ اور منظم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذریعے خطے اور دنیا کے لیے عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں جاری ہے …

اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):افغانستان تاحال بین الاقوامی دہشت گردی کا اہم گڑھ اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے جو سرحد پار حملوں، دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی، نظریاتی انتہاپسندی کے فروغ اور منظم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذریعے خطے اور دنیا کے لیے عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں جاری ہے جب امریکہ نے اس امر کو یقینی بنانے کے لیے نئے اقدامات شروع کیے ہیں کہ اس کی مالی امداد بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر طالبان حکومت کو تقویت نہ دے۔2021ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد علاقائی و عالمی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، جن کے تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔ ان گروہوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش خراسان، القاعدہ، اے کیو آئی ایس، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ/تحریک طالبان اسلامی پارٹی اور جماعت انصاراللہ شامل ہیں۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بارہا نشاندہی کی ہے کہ تقریباً 6 ہزار ٹی ٹی پی جنگجو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کی 37ویں مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی پر ’’انتہائی تشویش‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کی جانب سے سرحد پار حملوں میں نمایاں اضافے کی تصدیق کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ڈیورنڈ لائن پر مسلح کشیدگی اور جھڑپوں میں اضافہ ہوا۔ دہشت گردی کے اثرات وسطی ایشیائی ریاستوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ نومبر 2025ء کے اواخر اور 2026ء کے اوائل میں افغانستان کے صوبہ بدخشاں سے مبینہ طور پر کیے گئے ڈرون اور دراندازی حملوں میں تاجکستان میں چینی شہریوں اور بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں پانچ چینی کارکن ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

ان واقعات کے بعد سرحدی جھڑپیں ہوئیں جبکہ روس کی قیادت میں قائم ’’سی ایس ٹی او‘‘نے تاجکستان کی سرحدی دفاعی صلاحیت بڑھانے کا اعلان کیا۔ رپورٹس کے مطابق طالبان انتظامیہ دہشت گرد ڈھانچے کے خاتمے میں ناکام رہی ہے اور ان گروہوں کی نقل و حرکت اور سرگرمیاں آزادانہ جاری ہیں۔ مزید برآں طالبان سرپرستی میں 23 ہزار سے زائد مدارس کے قیام کو بعض مبصرین افغانستان کے تعلیمی نظام میں نظریاتی سخت گیری کے فروغ سے تعبیر کر رہے ہیں جس کے ممکنہ علاقائی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ ان سکیورٹی خدشات کے ساتھ انسانی حقوق کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے افغانستان کو مذہبی آزادی کی ’’منظم، مسلسل اور سنگین‘‘ خلاف ورزیوں کے باعث خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ طالبان کے نافذ کردہ تعزیری ضابطوں کے تحت شیعہ، احمدیہ، ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو امتیازی سلوک، دبائو اور جبر کا سامنا ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو پرائمری سطح کے بعد تعلیم سے محروم کر دیا گیا ہے جبکہ انہیں روزگار، عوامی شرکت اور بغیر محرم سفر پر بھی سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدامات معاشی بدحالی، سماجی بے چینی اور انتہا پسند عناصر کے لیے نئی بھرتیوں کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بحران کی جڑیں اس کے تاریخی و سیاسی ڈھانچے میں بھی پیوست ہیں۔ 19ویں صدی میں قائم کی گئی سرحدوں نے مختلف نسلی و لسانی اکائیوں پشتون، تاجک، ہزارہ، ازبک اور دیگر کو ایک ریاستی ساخت میں تو یکجا کیا تاہم ایک ہم آہنگ قومی سیاسی فریم ورک تشکیل نہ پا سکا۔ ماہرین کے مطابق طاقت کے ارتکاز، نسلی عدم توازن اور سیاسی شمولیت کی کمی نے طویل المدتی عدم استحکام کو جنم دیا۔ بعض حلقے اتفاق رائے سے، تدریجی اور بین الاقوامی نگرانی میں سیاسی اصلاحات، شراکتی طرز حکمرانی یا وفاقی نوعیت کے انتظامی ماڈلز پر مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے دو جماعتی حمایت سے ’’نو ٹیکس ڈالرز فار ٹیررسٹس ایکٹ‘‘ کی منظوری دی ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً طالبان، کو فائدہ نہ پہنچا سکے۔ مجوزہ قانون کے تحت محکمہ خارجہ کو امدادی رقوم کی شفاف نگرانی، غیر ملکی اداروں اور این جی اوز کے لیے رہنما حکمت عملی کی تیاری، حوالہ نیٹ ورکس کی نگرانی اور کانگریس کو باقاعدہ رپورٹ کرنے کا پابند بنایا جائے گا جبکہ افغان خواتین، لڑکیوں اور خطرے سے دوچار افراد کے تحفظ کو بھی ترجیح دی جائے گی۔

نگران ادارے سیگار (SIGAR) کی دسمبر 2025ء کی رپورٹ میں امدادی فنڈز میں بدعنوانی اور خوردبرد کے مسلسل خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم 10.9 ملین ڈالر امریکی فنڈز ٹیکس، فیسوں اور یوٹیلیٹی ادائیگیوں کی مد میں براہِ راست طالبان حکام کو منتقل ہوئے۔ 2025ء کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں افغانستان کی 182 ممالک میں سے 169ویں درجہ بندی انتظامی بدعنوانی کی عکاس ہے۔

علاقائی ممالک خصوصاً پاکستان نے دہشت گردی کے تدارک کے لیے مربوط انٹیلی جنس شیئرنگ، موثر سرحدی نظم و نسق، مالیاتی نگرانی اور مشترکہ سفارتی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق طالبان حکومت کے ساتھ کسی بھی سطح کی عالمی شمولیت کو واضح، قابل تصدیق اور قابل عمل شرائط سے مشروط ہونا چاہیے جن میں دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ، جامع سیاسی شمولیت، خواتین کے حقوق کی بحالی اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام شامل ہو۔