اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے شمالی وزیرستان میں فوجی کیمپ پر خار جی گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے خوارج کی جانب سے کیے گئے دہشت گرد حملہ کی شدید مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں چار جوان شہید ہوئے، افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں پر افغان طالبان رجیم کو شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے افغانستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو وزارتِ …
افغانستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی وزارتِ خارجہ طلبی، دہشت گرد حملہ کی شدید مذمت

مزید خبریں
اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے شمالی وزیرستان میں فوجی کیمپ پر خار جی گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے خوارج کی جانب سے کیے گئے دہشت گرد حملہ کی شدید مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں چار جوان شہید ہوئے، افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں پر افغان طالبان رجیم کو شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے افغانستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا۔
جمعہ کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے بعد وزارت خارجہ نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے فتنہ الخوارج/تحریکِ طالبان پاکستان (FAK/TTP) کو مسلسل فراہم کی جانے والی حمایت اور سہولت کاری پر پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیا اور کہا کہ اس کے باعث یہ دہشت گرد گروہ پاک-افغان سرحد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پاکستانی فوج اور شہری آبادی کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں ۔
افغانستان میں فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی کو میسر سازگار ماحول، افغانستان کی جانب سے کیے گئے بین الاقوامی وعدوں اور پاکستان کے ساتھ اس یقین دہانی کے منافی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک، بشمول پاکستان، کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔پاکستان نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کیے جانے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر اور سہولت کاروں کے خلاف مکمل تحقیقات اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
افغان طالبان رجیم پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں، بشمول ان کی قیادت کے خلاف فوری، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ وزارتِ خارجہ نے افغان طالبان رجیم کو دوٹوک الفاظ میں آگاہ کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔








