اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔تفصیلات کے مطابق افغان خواتین کی حالات زار پر اقوام متحدہ نے افغانستان امدادی مشن( یوناما) کی سہ ماہی رپورٹ جاری کردی ہے۔ سہ ماہی رپورٹ (جولائی تا ستمبر)میں افغانستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالی، خاص طور پر خواتین پر مظالم کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں ۔رپورٹ …
افغان خواتین پر تعلیمی، طبی اور سماجی پابندیاں برقرار ،یوناماکی سہ ماہی رپورٹ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔تفصیلات کے مطابق افغان خواتین کی حالات زار پر اقوام متحدہ نے افغانستان امدادی مشن( یوناما) کی سہ ماہی رپورٹ جاری کردی ہے۔
سہ ماہی رپورٹ (جولائی تا ستمبر)میں افغانستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالی، خاص طور پر خواتین پر مظالم کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے خواتین پر سفری، تعلیمی اور روزگار کی پابندیاں اب بھی عائد کر رکھی ہیں،2023 میں عائد افغان خواتین پر اقوام متحدہ کے دفاتر میں داخلہ کی پابندی بدستور برقرار ہے،
2022 سے افغان خواتین اور نوجوان لڑکیوں پر تعلیمی پابندی برقرار، کئی صوبوں میں مدارس تک بندہیں، بدخشاں کے متعدد اضلاع، پکتیکا اور کابل کے کئی مدارس جدید اور عصری مضامین پڑھانے پر بندکر دئیے گئے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کی طرف سے 2024 میں عائد میڈیکل اور ڈینٹسٹری تعلیم مکمل طور پر معطل، پابندی بدستور نافذہے، کئی صوبوں اور اضلاع میں خواتین کو علاج کے لیے مرد طبی عملہ کے پاس جانے کے لیے محرم کی شرط عائد ہے،معمولی سرزنش پر 456 بلاجواز گرفتاریاں اور 44 ناروا سلوک کے واقعات سہ ماہی رپورٹ میں شائع ہوئی ہے۔
عالمی برادری کو افغان خواتین کی حالت زار پرناصرف فوری توجہ کی ضرورت ہے بلکہ اسکے تدارک کیلئے مناسب اقدامات بھی کرنا ہونگے۔








