افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے ،حافظ طاہر اشرفی

لاہور۔31اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا ہے، اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کی گئی تو اسے ہر صورت روکا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا …

لاہور۔31اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا ہے، اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کی گئی تو اسے ہر صورت روکا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا واضح موقف ہے کہ نہ تو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونی چاہیے اور نہ ہی پاکستان سے کوئی شخص افغانستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔انہوں نے موجودہ سیز فائر کو مکمل امن معاہدے کی طرف پیشرفت قراردیا اور کہا کہ چھ نومبر کو ہونے والے مذاکرات سے مزید بہتری کی توقع ہے،پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے معاون اور ساتھی بنیں، نہ کہ ایک دوسرے کے لیے خطرات کا باعث۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب بھی دے رہا ہے اور آئندہ بھی دینے کو تیار ہے، مگر اپنے وطن میں خون کی ہولی نہیں کھیلنے دی جائے گی۔

حافظ طاہرمحمود اشرفی نے کہا کہ ملک میں اس وقت مدارس کے 15 بورڈز رجسٹرڈ ہیں جو وزارتِ تعلیم کے نظام کے تحت کام کر رہے ہیں، تمام بورڈز کے امتحانی و تعلیمی نظام ڈی جی ریلیجیئس ایجوکیشن کے دفتر میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی مریم نواز کی جانب سے آئمہ مساجد کے لیے وظیفہ مقرر کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ مدارس و مساجد نے ہمیشہ امن،بھائی چارے اور استحکام کا پیغام دیا ہے،تمام آئمہ و خطباء سے اپیل ہے کہ نماز جمعہ کے بعد ملکی سلامتی، استحکام، مذاکراتی عمل کی کامیابی، افغانستان کے ساتھ امن و اتفاق اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا کریں ۔انہوں نے پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو قوم کے ماتھے کا جھومر قرار دیا اور کہا کہ روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے تمام علما، سیاسی رہنمائوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں، محبت کا جذبہ رکھیں اور تفریق سے بچیں۔