اقوام متحدہ میں پاکستان کا سمندری غلبے کو مسترد کرنے کا اعلان، محفوظ اور پُرامن بحری خطوں کی حمایت

اقوام متحدہ ۔9دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان نے سمندری غلبے کو مسترد کرتے ہوئے محفوظ اور پُرامن بحری خطوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مندوب ذوالفقار علی نے کہا کہ دنیا کے سمندر تعاون اور اشتراک کے خطے ہونے چاہئیں اور پاکستان کسی بھی ایسی کوشش کو قبول نہیں کرے گا جس کا مقصد بحری علاقوں پر غلبہ حاصل …

اقوام متحدہ ۔9دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان نے سمندری غلبے کو مسترد کرتے ہوئے محفوظ اور پُرامن بحری خطوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مندوب ذوالفقار علی نے کہا کہ دنیا کے سمندر تعاون اور اشتراک کے خطے ہونے چاہئیں اور پاکستان کسی بھی ایسی کوشش کو قبول نہیں کرے گا جس کا مقصد بحری علاقوں پر غلبہ حاصل کرنا یا ساحلی ریاستوں کو پس پشت ڈالنا ہو۔

انہوں نے "Oceans and the Law of the Sea” کے عنوان سے ہونے والے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تجارت، سلامتی اور علاقائی روابط سمندری استحکام سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1982 کا اقوام متحدہ کا کنونشن برائے قانونِ بحریات (یواین سی ایل اوایس ) سمندری سرگرمیوں کے لئے ایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتا ہےاور 21ویں صدی کے تقاضے یہ ہیں کہ بحری علاقوں کوتصادم اور مقابلے کا میدان بنانے کی بجائے تعاون کا ذریعہ بنایا جائے۔پاکستانی مندوب نے 17 جنوری 2026 کو نافذ ہونے والے نئے بین الاقوامی معاہدے،جو قومی حدود سے باہر سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق ہے

،کا خیرمقدم کیا اور اسے ترقی پذیر ممالک خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے لیے بڑی پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے سمندری وسائل کے منصفانہ فوائد، استعداد کار میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سمندری علاقوں میں معدنیات کی کان کنی اس وقت تک شروع نہیں کی جانی چاہیے جب تک منصفانہ فائدہ رسانی کا جامع نظام تیار نہ ہو جائے۔

پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی سمندری ماحولیاتی نظام، خوراک کی فراہمی اور ساحلی برادریوں کی بقا کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور دنیا کے سمندر کی بگڑتی حالت پورے کرۂ ارض کے لیے وجودی چیلنج بن چکی ہے۔ذوالفقار علی نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام پر مکمل یقین رکھتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر سمندروں کو امن، مشترکہ خوشحالی اور شمولیتی ترقی کے خطے بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا۔

مزید خبریں