اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے سائبر سکیورٹی میں خواتین سے متعلق سعودی قرارداد منظور کر لی

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اپنے 62 ویں اجلاس میں سائبر سکیورٹی کے شعبے میں خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق سعودی عرب کی طرف سے پیش کی جانے والی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی

اقوام متحدہ۔8جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اپنے 62 ویں اجلاس میں سائبر سکیورٹی کے شعبے میں خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق سعودی عرب کی طرف سے پیش کی جانے والی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی،رابطہ عالم اسلامی اور اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی)نے کونسل کی قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ قرارداد سعودی ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے 2020 شروع کیے گئے سائبر سکیورٹی میں خواتین کو با اختیار بنانے کے اقدام پر مبنی ہے۔جنیوا میں سعودی عرب کے مستقل مشن کی پیش کی گئی قرارداد کا مقصد سائبر سکیورٹی کے شعبے میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ دینا، ان کی مہارتوں کو بڑھانا، پروفیشنل ترقی میں مدد کرنا اور عالمی سائبر سکیورٹی مہارت کے فرق کو دور کرنے میں مدد کرنا ہے۔ سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالمحسن بن خثیلہ نے کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سائبر سکیورٹی کے شعبے میں خواتین کی شمولیت بڑھانے، ان کی پیشہ ورانہ مہارتوں کو فروغ دینے اور انہیں قائدانہ عہدوں تک پہنچانے کے لیے بین الاقوامی تعاون، تکنیکی معاونت اور استعداد کاربڑھانے کی سعودی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، اس سے میں مختلف ممالک کی قومی ترجیجات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔واضح رہے انٹرنیشنل سائبر سکیورٹی فورم فائونڈیشن سعودی ولی عہد کی جانب سے شروع کیے گئے دو بین الاقوامی انیشی ایٹیوز، سائبر سپیس میں بچوں کا تحفظ اور سائبر سکیورٹی کے شعبے میں خواتین کو با اختیار بنانے کے منصوبوں پرعمل درآمد کی نگرانی کر رہی ہے۔ فائونڈیشن اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور شراکت داروں کے تعاون سے کام کر رہی ہے۔