مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے خلاف 2-3 کی ڈرامائی شکست کے بعد فیفا ورلڈ کپ کی شفافیت اور میچ آفیشلز کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے
مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے ارجنٹائن کی فتح کو بیرونی عوامل کا نتیجہ قرار دے دیا

مزید خبریں
اٹلانٹا۔8جولائی (اے پی پی):مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے خلاف 2-3 کی ڈرامائی شکست کے بعد فیفا ورلڈ کپ کی شفافیت اور میچ آفیشلز کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ٹیم کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔شنہوا کے مطابق مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے فیفا ورلڈ کپ پری کوارٹر فائنل میچ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے ہاتھوں 2-3 سے شکست اور میگا ایونٹ سے اخراج کے بعد ٹورنامنٹ کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مصر کی ٹیم میچ میں 0-2 کی تاریخی برتری حاصل کرنے کے باوجود ارجنٹائن کے شاندار کم بیک کی وجہ سے ہار گئی جس میں لیونل میسی نے ایک گول سکور اور دوسرے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم میچ کے بعد مصری کوچ شدید برہم نظر آئے اور انہوں نے الزام لگایا کہ میچ کے فیصلے گراؤنڈ کے اندرونی اور بیرونی عوامل سے متاثر ہوئے کیونکہ انتظامیہ لیونل میسی اور ورلڈ چیمپئن ارجنٹائن کو ٹورنامنٹ میں برقرار رکھنا چاہتی تھی۔
حسام حسن نے فرانسیسی ریفری فرانکوئس لیٹیکسیئر کی کارکردگی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مصر کا ایک باقاعدہ گول وی اے آر کے ذریعے منسوخ کیا گیا جبکہ میچ کے آخری لمحات میں الیکس میک الیسٹر کے فاؤل پر مصر کی پنالٹی اپیل کو وی اے آر پر چیک تک نہیں کیا گیا اور اسی کاؤنٹر اٹیک پر اینزو فرنانڈیز نے ارجنٹائن کا امیندی گول داغ دیا۔ مصری کوچ کا کہنا تھا کہ ٹورنامنٹ میں ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور فیئر پلے کے اصولوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے میچ کے دوپہر کے وقت شیڈول کیے جانے پر بھی اعتراض اٹھایا اور بتایا کہ انہوں نے میچ کے اختتام پر ریفری کے منہ پر جا کر اپنے تحفظات اور غصے کا اظہار کیا۔







