اقوام متحدہ۔28اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ڈیجیٹل رسائی میں تفریق کے خاتمے کی قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی،جس کا پاکستان نے خیر مقدم کیا ہے۔اس قرارداد کا مقصد ربط سازی کی تقسیم کوختم کرنا اور انفراسٹرکچر فنانسنگ کے خلا کو سرکاری اور نجی فنڈز، تکنیکی تعاون اور ترقی پذیر ممالک میں مہارتوں کی ترقی اور صلاحیتوں کی تعمیر کی مدد سے پُر کرنا …
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ڈیجیٹل رسائی میں تفریق کے خاتمے کی قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری ، پاکستان کا خیر مقدم

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔28اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ڈیجیٹل رسائی میں تفریق کے خاتمے کی قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی،جس کا پاکستان نے خیر مقدم کیا ہے۔اس قرارداد کا مقصد ربط سازی کی تقسیم کوختم کرنا اور انفراسٹرکچر فنانسنگ کے خلا کو سرکاری اور نجی فنڈز، تکنیکی تعاون اور ترقی پذیر ممالک میں مہارتوں کی ترقی اور صلاحیتوں کی تعمیر کی مدد سے پُر کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کی193 رکنی جنرل اسمبلی نے اپنی شرائط کے تحت معیاری، قابل بھروسہ، پائیدار اور لچکدار بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا جس میں سب کے لیے سستی اور مساوی رسائی پر توجہ مرکوز کی گئی اور مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے لچک پیدا کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کے رابطوں کو بڑھانے کا عزم بھی کیا۔جنرل اسمبلی میں یہ قرارداد پولینڈ کی جانب سے گزشتہ روز پیش کی گئی جسے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔
جنرل اسمبلی نے مزید علاقائی اور بین العلاقائی اقتصادی انضمام اور تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں پر زور دیا، ساتھ ہی ریاستوں سے ڈیجیٹل اوپن مارکیٹس کے معمول کے کام کو یقینی بنانے، عالمی سپلائی چین کنیکٹیویٹی اور ضروری مقاصد کے لیے سرحد پار سفر کو یقینی بنانے پر زور دیا۔دیگر شرائط کے علاوہ،جنرل اسمبلی نے اقوام متحدہ کے نظام اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) سرمایہ کاری کے خلا کو ختم کرنے کی کوششوں میں ترقی پذیر ممالک کی صلاحیت سازی میں مدد کریں۔
ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے قرارداد کے مسودے کی حمایت کی اور توانائی، نقل و حمل، ہاؤسنگ، مواصلات، صنعتی اور زرعی شعبوں میں پائیدار بنیادی ڈھانچے کی جانب ایک بڑی منتقلی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2050 تک عالمی سطح پر کاربن کے صفر اخراج کے لیے اگلے 30 سالوں میں اس طرح کے بنیادی ڈھانچے میں 100سے 120 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ یو این سی ٹی اے ڈی)کے مطابق موجودہ بنیادی ڈھانچے کی فنڈنگ کا فرق سالانہ 2ٹریلین ڈالرسے زیادہ ہے جس میں سے دو تہائی ترقی پذیر ممالک میں ہے۔پاکستانی مندوب نے پائیدار انفراسٹرکچر اور علاقائی روابط کے حصول کے لیے قرارداد کا خیرمقدم کیا اور بڑھتی ہوئی آفات سے ہونے والے معاشی نقصانات پر تشویش کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے باعث ان کے ملک کو تعمیر نو کے لیے 15 بلین ڈالر اور نئے انفراسٹرکچر کو لچکدار بنانے کو یقینی بنانے کے لیے مزید 15 بلین ڈالر درکار ہوں گے ۔








