اقوام کا غزہ پر عائد انسانی امداد کی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے نائب سیکرٹر ی جنرل اور ہنگامی امداد کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے غزہ میں انسانی امدادی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ٹام فلیچر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بعض بہتریوں کے باوجود امدادی اداروں کو اب بھی مسلسل اور دانستہ رکاوٹوں کا سامنا ہے، جس کے باعث ضرورت …

اقوام متحدہ ۔19جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی امور کے نائب سیکرٹر ی جنرل اور ہنگامی امداد کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے غزہ میں انسانی امدادی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ٹام فلیچر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بعض بہتریوں کے باوجود امدادی اداروں کو اب بھی مسلسل اور دانستہ رکاوٹوں کا سامنا ہے، جس کے باعث ضرورت مند افراد تک امداد کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انسانی امداد کی ترسیل اب بھی صرف ایک یا دو فعال سرحدی گزرگاہوں تک محدود ہے، حالانکہ امدادی سامان اور عملے کی نقل و حرکت کے لیے کہیں زیادہ گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق پیچیدہ منظوریوں، کسٹم ضوابط اور بعض اشیا کو "دوہری استعمال” قرار دے کر عائد کی جانے والی پابندیوں نے ضروری امدادی سامان کی رسائی محدود کر دی ہے۔

ٹام فلیچر نے کہا کہ امدادی سرگرمیاں ایندھن، اسپیئر پارٹس، بکتر بند گاڑیوں اور امدادی کارکنوں کے حفاظتی سامان کی کمی کے باعث شدید متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اور غیر سرکاری تنظیموں کی خدمات پر پابندیاں بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔انہوں نے شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ غزہ کے تمام ضرورت مند علاقوں تک محفوظ، مسلسل اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی فراہم کرنے پر زور دیا۔اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ نے مطالبہ کیا کہ ایریز/بیت حانون، کارنی اور کرم شالوم/کرم ابو سالم سرحدی گزرگاہوں کو مکمل صلاحیت کے ساتھ فوری طور پر فعال کیا جائے تاکہ بڑے پیمانے پر امداد کی ترسیل ممکن ہو سکے۔

انہوں نے غزہ کے اندر اہم مقامات، بشمول سرحدی باڑ کے قریب واقع لینڈ فل سائٹس تک رسائی کی بھی اپیل کی۔ٹام فلیچر نے سلامتی کونسل کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ طبی آلات، تشخیصی مشینری، پانی و صفائی کے نظام کے لیے ضروری اسپیئر پارٹس، ایندھن، انجن آئل، مواصلاتی اور حفاظتی سامان پر عائد اسرائیلی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔انہوں نے انسانی امداد سے متعلق کسٹم چھوٹ کی بحالی، اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں کے بین الاقوامی عملے کے لیے طویل المدتی ویزوں کے اجرا اور این جی اوز کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

ٹام فلیچر نے مزید کہا کہ اردن سے سرکاری سطح پر امدادی قافلوں کی بحالی اور مریضوں کے انخلا کے عمل کو وسعت دی جائے تاکہ انہیں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے طبی مراکز تک منتقل کیا جا سکے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانی امداد مختلف اختیارات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مربوط نظام ہے، جس کا کوئی بھی حصہ متاثر ہونے سے پورا امدادی ڈھانچہ کمزور پڑ جاتا ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر فلیچر نے کہا کہ دنیا کو ایسی صورتحال ہرگز قبول نہیں کرنی چاہیے جہاں بچے بمباری سے تو محفوظ ہوں اور زندہ رہنے کے لیے کافی خوراک حاصل کر لیں، لیکن پھر بھی بھوک، بے گھری اور تعلیم سے محرومی کا شکار رہیں۔