الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال نے آنکھوں کے موروثی امراض میں مبتلا 139 مریضوں کے جینیاتی ٹیسٹ مکمل کر لیے

اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال نے آنکھوں کے موروثی امراض میں مبتلا 91 خاندانوں کے 139 مریضوں کے جینیاتی ٹیسٹ مکمل کر لیے ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان کی آنکھوں کے امراض کے لیے مخصوص پہلے جینیاتی ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آئی ہے۔شعبہ اوفتھلمک جینیٹکس کی جینیٹسٹ ڈاکٹر رُتابہ گل کے مطابق جینیاتی ٹیسٹنگ لیبارٹری جنوری 2025 میں …

اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال نے آنکھوں کے موروثی امراض میں مبتلا 91 خاندانوں کے 139 مریضوں کے جینیاتی ٹیسٹ مکمل کر لیے ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان کی آنکھوں کے امراض کے لیے مخصوص پہلے جینیاتی ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آئی ہے۔شعبہ اوفتھلمک جینیٹکس کی جینیٹسٹ ڈاکٹر رُتابہ گل کے مطابق جینیاتی ٹیسٹنگ لیبارٹری جنوری 2025 میں قائم کی گئی تھی جس کا مقصد ڈاکٹروں کو بینائی کے موروثی نقصانات کا سبب بننے والے جینز کی نشاندہی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آنکھوں کے موروثی امراض عالمی شرح کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ الشفا ٹرسٹ کے شعبہ اوفتھلمک جینیٹکس میں جدید ڈی این اے ٹیسٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے آنکھوں کے موروثی امراض کی وجوہات کی تصدیق کی جاتی ہے جس سے ابتدائی اور زیادہ درست تشخیص ممکن ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آنکھوں کے موروثی امراض کی بلند شرح کی ایک بڑی وجہ قریبی رشتہ داروں میں شادیوں کا عام رواج ہے۔

تحقیق کے مطابق پاکستان میں موروثی ریٹینل بیماریوں کے 70 فیصد سے زائد کیسز ایسے بچوں میں پائے جاتے ہیں جو قریبی رشتہ دار والدین کے ہاں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر یہ امراض یورپ، امریکا اور دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔جینیاتی لیبارٹری میں متعدد ایسے امراض کی تشخیص کی جا رہی ہے جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں شدید بصارت کی کمی یا مکمل نابینا پن کا سبب بن سکتے ہیں۔ مریضوں کو علامات اور خاندانی تاریخ کی بنیاد پر ماہرین چشم کی جانب سے شعبہ جینیٹکس میں ریفر کیا جاتا ہے۔

جینیاتی وجہ کی تصدیق کے بعد خاندانوں کو جینیاتی مشاورت فراہم کی جاتی ہے تاکہ دیگر اہل خانہ اور آئندہ نسلوں کے لیے ممکنہ خطرات اور دستیاب علاج سے متعلق آگاہی دی جا سکے۔ شعبہ آربیٹ اور اوکولوپلاسٹک کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر طیب افغانی نے کہا کہ پاکستان میں بچوں میں آنکھوں کے کینسر کے مرض کا بھی سامنا ہے۔ الشفا ٹرسٹ ہسپتالوں میں ہر سال تقریباً 700 بچوں کےآنکھوں کے کینسر کا علاج کیا جاتا ہے، جو بھارت کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔الشِفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے صدر میجر جنرل (ر) رحمت خان نے بتایا کہ ہسپتال میں تمام جینیاتی ٹیسٹ بلند اخراجات کے باوجود بلا معاوضہ فراہم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ جینیاتی ٹیسٹنگ پروگرام کو وسعت دینے اور ابتدائی سکریننگ و مستقبل کے علاج کی سہولت کے لیے قومی ڈیٹا بیس قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔الشِفا ٹرسٹ کے ہسپتالوں میں تقریباً 80 فیصد مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ہسپتال راولپنڈی، چکوال، کوہاٹ، سکھر، مظفرآباد اور گلگت میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ لاہور میں ایک نئے ہسپتال کے قیام کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جو 2027 تک فعال ہو جائے گا۔