اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):اسرائیلی صدر ائزک ہرزوگ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ سے فلسطینیوں کو ہمسایہ ممالک میں منتقل کرنے کی تجویز پر عرب ممالک کے سربراہوں کے ساتھ بات چیت شروع کریں گے ۔رشیا ٹوڈے کے مطابق فاکس نیوز کو انٹرویو میں اسرائیلی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی صدر غزہ پر فوجی قبضہ کرنے کی بات نہیں کر رہے …
امریکی صدر غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کی تجویز پر عرب ممالک کے سربراہاں کے ساتھ بات چیت شروع کریں گے ، اسرائیلی صدر

مزید خبریں
اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):اسرائیلی صدر ائزک ہرزوگ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ سے فلسطینیوں کو ہمسایہ ممالک میں منتقل کرنے کی تجویز پر عرب ممالک کے سربراہوں کے ساتھ بات چیت شروع کریں گے ۔رشیا ٹوڈے کے مطابق فاکس نیوز کو انٹرویو میں اسرائیلی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی صدر غزہ پر فوجی قبضہ کرنے کی بات نہیں کر رہے ۔
اسرائیلی صدرنے فلسطینی کے پڑوسی ممالک پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کا متبادل حل پیش کریں۔اسرائیلی صدر نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سب سے پہلے اردن کے بادشاہ اور مصر کے صدر، اور میرے خیال میں سعودی عرب کے ولی عہد سے بھی ملاقات کریں گے کیونکہ یہ امریکا کے ایسے شراکت دار ہیں جن کی بات سنی جانی چاہیے اور ان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے جس میں مستقبل کے لئے کوئی پائیدار منصوبہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے منصوبے میں غزہ جسے وہ مشرق وسطیٰ کا رویرا کہتے ہیں، کی تعمیر نو کا تصور کیا گیا ہے ، اس منصوبے میں بے گھر فلسطینیوں کو ابتدائی طور پر اردن، مصر اور دیگر عرب ممالک میں منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس تجویز کی حمایت کی ہے۔تاہم اس اقدام کی خطے کے اہم ممالک کی طرف سے سخت مخالفت کی گئی ہے۔
اردن اور مصر پہلے ہی اس منصوبے کو مسترد کر چکے ہیں اور خبردار کر چکے ہیں کہ یہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ عرب لیگ اور حماس نے بھی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جبکہ جرمنی، فرانس، برازیل، روس اور چین سمیت متعدد عالمی طاقتوں نے غزہ کے مکینوں کی نقل مکانی کے خیال کی مذمت کی ہے۔
اس منصوبے کی مخالفت کرنے والے ممالک کا استدلال ہے کہ جبری نقل مکانی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرے گی، انسانی حقوق کے حامیوں نے اس تجویز کو نسلی تطہیر کا نام دیا ہے۔اس مخالفانہ ردعمل کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مبینہ طور پر سفارتی بات چیت کو آگے بڑھا رہے ہیں، اور اپنے نقطہ نظر کو بہتر بنانے کے لئے عرب رہنماؤں سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔








