امر یکا کی یوکرین کو لانگ رینج میزائلوں کے استعمال کی اجازت ، فیصلہ تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے، روس

واشنگٹن۔18نومبر (اے پی پی):امر یکا نے یوکرین کو روسی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ساختہ لانگ رینج میزائلوں کے استعمال کی اجازت دے دی اور روس نے خبر دار کیا ہے کہ یہ امریکی فیصلہ تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے ۔ رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف ذرائع نے آپریشنل سکیورٹی خدشات کی وجہ سے تفصیلات ظاہر کئے بغیر کہا کہ یوکرین آنے والے …

واشنگٹن۔18نومبر (اے پی پی):امر یکا نے یوکرین کو روسی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ساختہ لانگ رینج میزائلوں کے استعمال کی اجازت دے دی اور روس نے خبر دار کیا ہے کہ یہ امریکی فیصلہ تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے ۔ رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف ذرائع نے آپریشنل سکیورٹی خدشات کی وجہ سے تفصیلات ظاہر کئے بغیر کہا کہ یوکرین آنے والے دنوں میں روس کے خلاف پہلا طویل فاصلے تک حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔صدر بائیڈن کی جانب سے امریکی ساختہ میزائلوں کے استعمال کی اجازت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو ماہ بعد 20 جنوری 2025 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

ایک امریکی اہلکار اور اس فیصلے سے واقف ایک ذریعے نے کہا کہ یہ تبدیلی بڑی حد تک روس کی جانب سے شمالی کوریا کے زمینی دستوں کی تعیناتی کے ردعمل میں ہوئی ، یہ ایسی پیشرفت ہے جس نےامریکا اور یوکرین میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ادھر،وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ روسی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ روسی حکومت نے قبل ازیں خبردار کیا تھا کہ وہ یوکرین کی جانب سے امریکی ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دینے کے اقدام کو کشیدگی میں اضافے کے طور پر دیکھے گا۔

روس کے ایوانِ بالا کی بین الاقوامی امور کی کمیٹی کے پہلے نائب سربراہ ولادیمیر زباروف کا کہنا تھا کہ کیف کو روس میں دور تک حملہ کرنے کی اجازت دینے کا واشنگٹن کا فیصلہ تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے حملے کے لیے اے ٹی اے سی ایم ایس راکٹس کا استعمال کیا جا سکتا ہے جن کی رینج 306 کلومیٹر تک ہے۔یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ اقتدار سنبھالنے کے بعد بائیڈن کے فیصلے کو واپس لیں گے کہ نہیں۔ ٹرمپ نے طویل عرصے سے یوکرین کے لئے امریکی مالی اور فوجی امداد پر تنقید کی ہے اور جنگ کو جلد ختم کرنے کا عزم کیا ہے لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ یہ جنگ کیسے ختم کریں گے۔

نومنتخب صدر کے ترجمان نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا لیکن ٹرمپ کے قریبی خارجہ پالیسی مشیروں میں سے ایک رچرڈ گرینیل نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ واضح رہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کئی ماہ قبل امریکا سے درخواست کی تھی کہ وہ یوکرین کی فوج کو اپنی سرحد سے دور روسی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے امریکی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دے۔زیلنسکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میزائل خود ہی اپنی کارکردگی دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج میڈیا میں بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں مناسب کارروائی کرنے کی اجازت مل گئی ہے لیکن حملے الفاظ سے نہیں کیے جاتے، ایسی چیزوں کا اعلان نہیں کیا جاتا۔