انسداد تشدد کا بل جنوری2019ءکے آخر میں دوبارہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری

اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ انسداد تشدد کا بل جنوری2019ءکے آخر میں دوبارہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ جمعرات کو یہاں اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انسداد تشدد کا بل قومی اسمبلی میں دوبارہ پیش کریں گے قبل ازیں 2104ء میں یہ بل سینیٹر فرحت اللہ …

اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ انسداد تشدد کا بل جنوری2019ءکے آخر میں دوبارہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ جمعرات کو یہاں اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انسداد تشدد کا بل قومی اسمبلی میں دوبارہ پیش کریں گے قبل ازیں 2104ء میں یہ بل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں پیش کیااورسینیٹ نے اس بل کو منظور بھی کیا لیکن قومی اسمبلی میں تا خیر کے باعث اس وقت اس بل کی مدت ختم ہو چکی تھی۔انھوں نے کہا وزارت انسانی حقوق نے دو بلوں کا تقابلی جائزہ لیا ہے جو اس وقت وزارت داخلہ کو بھجوا گیا ہے اور توقع ہے کہ قانون سازی کے لئے جلد کابینہ کو بھیج دیا جائے گا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے مزید کہا کہ اس بل کو پیش کرنے میں اب مزید تاخیر نہیں ہو گی کیونکہ پاکستان نے انسداد تشدد کے بین الاقوامی کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں۔

مزید خبریں