انسداد سموگ کیلئے اٹھائے گئے ہنگامی اقدامات کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں ،سینئرصوبائی وزیرمریم اورنگزیب

لاہور۔26اکتوبر (اے پی پی):سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کی قیادت میں انسداد سموگ کیلئے اٹھائے گئے ہنگامی اقدامات کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔گزشتہ سال ماہ اکتوبر میں سموگ شدت اختیار کر گئی تھی۔اللہ تعالی کا شکر ہے کہ آج سموگ کے حوالے سے صورتحال بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک لاک ڈائون، انڈسٹری اور تعلیمی ادارے بند کرنے …

لاہور۔26اکتوبر (اے پی پی):سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کی قیادت میں انسداد سموگ کیلئے اٹھائے گئے ہنگامی اقدامات کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔گزشتہ سال ماہ اکتوبر میں سموگ شدت اختیار کر گئی تھی۔اللہ تعالی کا شکر ہے کہ آج سموگ کے حوالے سے صورتحال بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک لاک ڈائون، انڈسٹری اور تعلیمی ادارے بند کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ہے۔ وزیر اعلی مریم نواز کی قیادت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے سموگ کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور اپنے شہریوں کو آلودگی سے پاک فضا کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ انسداد سموگ کے حوالے سے ملٹی سیکٹورل اپروچ اپنائی گئی ہے۔انسداد سموگ کی مہم میں کسان،صنعت کار اور ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلی آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ 2007 میں صرف 3ائر کوالٹی مانیٹر ملے تھے اور وہ بھی غیر فعال تھے۔ اس وقت 41ائر کوالٹی مانیٹر نصب ہیں جبکہ آئند سال جون تک 100ائر کوالٹی مانیٹر نصب ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فصلوں کی باقیات جلانے کا کام دہائیوں سے جاری تھا موجودہ حکومت نے اس کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کئے۔اس وقت 5ہزار سپر سیڈرز فیلڈ میں کام کر رہے ہیں اور آئندہ 2سالوں میں 15سے 20ہزار سپرسیڈرز کا اضافہ کیا جائے گا۔سپر سیڈرز کی فراہمی میں حکومت سبسڈی دے رہی ہے۔ کسانوں کو ہارویسٹرز اور بیلرز بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 8ہزار سے زائد صنعتی یونٹس پر ائر کوالٹی کنٹرول سسٹم لگ چکے ہیں اسی طرح 11374 اینٹوں کے بھٹے میپڈ اور کیو آر کوڈیڈ ہیں جو مانیٹرنگ روم کے ساتھ منسلک ہیں جہاں سے کالے دھویں کی شکایت آتی ہے اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

پنجاب میں پہلی مرتبہ وہیکل فٹنس سرٹیفکیٹ متعارف کرایا گیا ہے ۔ ملتان،فیصل آباد،راولپنڈی اور لاہور میں ایندھن ٹیسٹنگ شروع کی گئی ہے۔ انوائرمنٹ پروٹیکشن فورس بھی بن چکی ہے اور فیلڈ میں متحرک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایسٹرن ونڈ کوریڈور ایکٹیویٹ ہے جس کے ساتھ پنجاب،سینٹرل پنجاب اور لاہور کے گردونواح کے علاقے متاثر ہوتے ہیں دیوالی کے تہوار سے بھی ائر کوالٹی انڈیکس کے حوالے سے کچھ مسائل پیدا ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ انسداد سموگ کے حوالے سے وزیر اعلی پنجاب کی زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے ۔374 کنسٹرکشن سائٹس پر سپرنکلر موجود ہیں اس کے بغیر کنسٹرکشن نہیں ہوسکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انڈیا،سنگا پور، سعودی عرب،بنگلہ دیش اور دیگر 33ممالک میں سموگ گنز استعمال ہورہی ہیں۔

اس سال پنجاب کیلئے مزید سموگ گنز منگوائی جائیں گی،چین کو سمو گ پر قابو پانے کیلئے دو دہائیاں لگیں اور پنجاب حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں حوصلہ افزا نتائج حاصل کئے ہیں اور حالیہ اکتوبر کے مہینے میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔حکومت نے انسداد سموگ کے حوالے سے اے کیو آئی ایپ، اے کیو آئی پنجاب پورٹل اور ہیلپ لائین متعارف کرائی ہے۔ انسداد سموگ کی مہم میں میڈیا بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے جس پر میں میڈیا کی مشکور ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ دہائیوں کے بعد لاہور کا سیوریج سسٹم تبدیل ہورہا ہے، ہمارے پاس مصنوعی بارش کی ٹیکنالوجی موجود ہے تاہم ابھی اس کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور رنگ روڈ کے ارد گرد شجر کاری کی جارہی ہے جہاں نئی سڑک بنے گی وہاں شجر کاری بھی نظر آئے گی۔