اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے آرمز کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنٹ سینٹر (اے سی ڈی سی) نے اپنی تازہ ترین کتاب “A New Era of Uncertainty: Emerging Technologies and Strategic Stability” کی تقریب رونمائی منعقد کی۔ اس موقع پر کتاب کے مصنفین میں ایڈوائزر ایئر ہیڈکوارٹرز ایئر کموڈور (ر) خالد بنوری، ڈائریکٹر جی آر سی ڈاکٹر مہرین افضل، ڈاکٹر ظفر …
انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد میں کتاب کی رونمائی کی تقریب

مزید خبریں
اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے آرمز کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنٹ سینٹر (اے سی ڈی سی) نے اپنی تازہ ترین کتاب “A New Era of Uncertainty: Emerging Technologies and Strategic Stability” کی تقریب رونمائی منعقد کی۔ اس موقع پر کتاب کے مصنفین میں ایڈوائزر ایئر ہیڈکوارٹرز ایئر کموڈور (ر) خالد بنوری، ڈائریکٹر جی آر سی ڈاکٹر مہرین افضل، ڈاکٹر ظفر نواز جسپال، میجر جنرل (ر) آصف علی، ایڈوائزر سٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی)، تنزیلہ خلیل اور ذوہیب الطاف شامل تھے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر سی آئی ایس ایس-اے جے کےڈاکٹر اسماء شاکر خواجہ اور ایڈوائزر ایس پی ڈی ڈاکٹر ظہیر کاظمی نے بطور مبصر شرکت کی۔
تقریب کے مہمان خصوصی وزارت خارجہ کے ترجمان سفیر طاہر حسین اندرابی تھے۔مہمان خصوصی سفیر طاہر حسین اندرابی نے کتاب کو بروقت اور بصیرت افروز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب زمین، سمندر، فضاء، خلاء اور سائبر سپیس کے پانچوں شعبوں میں ابھرتی ہوئی اور خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجیز (ای ڈی ٹیز) کے استعمال پر جامع روشنی ڈالتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کے موضوعات آج کے دور میں نہایت اہم ہیں، کیونکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کس طرح سٹریٹجک استحکام، اسلحہ کے کنٹرول اور بحران کے نظم و نسق کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس ایس آئی سفیر سہیل محمود نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، ہائپرسانک میزائلز اور جدید سائبر صلاحیتیں، ساتھ ہی خلاء کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت کے اصولوں اور عالمی طاقت کے توازن کو ازسرنو متعین کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب اس ٹیکنالوجی کے دور کی تبدیلی کی روح کو موثر انداز میں پیش کرتی ہے اور علمی تحقیق کے ساتھ ساتھ پالیسی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔سفیر سہیل محمود نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا میں ان ٹیکنالوجیز کے اثرات خاص طور پر گہرے ہیں، کیونکہ خطے کا پہلے سے ہی نازک سٹریٹجک توازن اس تکنیکی انقلاب سے مزید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر ملک قاسم مصطفیٰ اور ان کی ٹیم کو اس اہم علمی کاوش پر سراہا۔ڈائریکٹر اے سی ڈی سی ملک قاسم مصطفیٰ نے کہا کہ اس کتاب کا مقصد صرف جدید ہتھیاروں کی فہرست یا مستقبل کی جنگوں کی پیش گوئی نہیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سائبر صلاحیتیں اور خودکار ہتھیار کس طرح عالمی سلامتی، شراکت داریوں اور سٹریٹجک استحکام کو نئی سمت دے رہے ہیں۔ایئر کموڈور (ر) خالد بنوری نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نے جنگ کے طریقہ کار اور نوعیت کو بدل دیا ہے۔
ان کے مطابق امن و جنگ، انسان اور مشین اور دفاعی صلاحیت و عدم یقین کے درمیان فرق دھندلا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کی دوڑ نے عسکری تبدیلی کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ڈاکٹر مہرین افضل نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایک دو دھاری تلوار ہے ، یہ دفاعی نظام کو مضبوط بناتی ہے، لیکن اسی کے ساتھ نئے خطرات جیسے ڈیپ فیکس، فشنگ اور پرائیویسی کے مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔میجر جنرل (ر) آصف علی نے خودکار ہتھیاروں کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نگرانی اور ہدف بندی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی پر مبنی ڈرونز کم لاگت لیکن زیادہ تباہ کن ہیں جو عدم توازن اور تصادم کے امکانات کو بڑھاتے ہیں۔
انہوں نے خودکار ہتھیاروں کے استعمال کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات (سی بی ایمز) اور موثر انتظامی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر اسماء شاکر خواجہ نے کتاب کو کثیر الجہتی آراء کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی انسانی فیصلہ سازی کی جگہ نہیں لے سکتی۔ انہوں نے اخلاقی جدت، سٹریٹجک خودمختاری اور متوازن نظریاتی (Doctrinal) و تکنیکی ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔اسی طرح ڈاکٹر ظہیر کاظمی نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نے دفاعی صلاحیت، طاقت کے توازن اور جنگ کے قانونی اصولوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی نے حکمت عملی اور قانون دونوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، لہٰذا اخلاقی گورننس اور نظریاتی (Doctrinal) جدت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔تقریب کا اختتام چیئرمین بورڈ آف گورنرز سفیر خالد محمود کے شکریہ کے کلمات اور گروپ فوٹو کے ساتھ ہوا۔








