اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ انڈس اے آئی ویک کا مقصد مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی، صلاحیت سازی، تحقیق اور عوامی شمولیت کو فروغ دینا ہے، مستقبل میں اے آئی ایک بنیادی اور ناگزیر عنصر بننے جا رہا ہے، 2026ء ایکشن کا سال ہوگا، آئندہ چند ماہ میں پاکستان کے بڑے شہروں میں فائیو جی ٹیکنالوجی لانچ کر …
انڈس اے آئی ویک کا مقصد مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی ،صلاحیت سازی ،تحقیق اور عوامی شمولیت کو فروغ دینا ہے، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ انڈس اے آئی ویک کا مقصد مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی، صلاحیت سازی، تحقیق اور عوامی شمولیت کو فروغ دینا ہے، مستقبل میں اے آئی ایک بنیادی اور ناگزیر عنصر بننے جا رہا ہے، 2026ء ایکشن کا سال ہوگا، آئندہ چند ماہ میں پاکستان کے بڑے شہروں میں فائیو جی ٹیکنالوجی لانچ کر دی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو رواں سال کی سب سے بڑی مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی شو کیس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ویک میں اے آئی سمٹ 9 فروری 2026 کو جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد، انوویشن، لرننگ اور انگیجمنٹ ایرینا 9 سے 10 فروری کو اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس جبکہ نیشن وائیڈ ایکو سسٹم پارٹیسپیشن کا انعقاد 9 سے 15 فروری تک ملک کے مختلف حصوں میں کیا جائے گا، ہم چاہتے ہیں کہ مختلف شعبوں کے ماہرین کو ساتھ لے کر بڑے پیمانے پر پالیسی ڈائیلاگ کیے جائیں جہاں کھل کر گفتگو ہو اور ہمارے موجودہ روڈ میپس کو مزید مضبوط اور موثر بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم اے آئی کو اپنانے کے لئے ایک قومی سٹریٹجک روڈ میپ ترتیب دینا چاہتے ہیں، دنیا میں جہاں بھی واضح حکمت عملی کے ساتھ منصوبہ بندی کی گئی، وہاں نمایاں نتائج سامنے آئے، پاکستان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ ایک نیشن وائیڈ موومنٹ کے طور پر آگے بڑھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری نوجوان آبادی ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے، اگر ہم اجتماعی طور پر میڈیا، حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر اس موومنٹ میں قومی جذبے کو شامل کر لیں تو دنیا میں ہمیں ٹیکنالوجی لیڈر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس نیشن وائیڈ موومنٹ کو ممکن بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اے آئی کے علم کو عام کیا جائے تاکہ ہر فرد کو اس تک رسائی اور اس کے فوائد سے آگاہی حاصل ہو، اس طرح ہر چھوٹا بڑا، بچہ اور بزرگ اس موومنٹ کا حصہ بن سکے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ انڈس اے آئی ویک صلاحیت سازی تحقیق اور عوامی شمولیت کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے، اے آئی کو عام فہم بنا کر اسے عملی استعمال کے مختلف شعبوں تک وسعت دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر محض گفتگو کی بجائے عملی نفاذ کی جانب پیشرفت ناگزیر ہے ، انڈس اے آئی پالیسی صنعت اور ٹیلنٹ کو یکجا کرنے کا سبب بنے گا۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اے آئی ویک پاکستان کو عالمی اے آئی ایکو سسٹم میں جڑنے میں معاون ثابت ہوگا اور پاکستان کو موثر اور معتبر شراکت دار کے طور پر اجاگر کرے گا، اے آئی کے ذریعے مختلف شعبوں میں بروقت سرمایہ کاری کامیاب مستقبل کی بنیاد ہوگی،مستقبل میں اے آئی ایک بنیادی اور ناگزیر عنصر بننے جا رہا ہے۔








