انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے غیر پیداواری سرکاری اداروں کے بورڈز کی تحقیقات کے لیےخصوصی عدالت قائم کرنے کاعندیہ دیا ہے،جو مبینہ طور پر فرضی منافع ظاہر کرتے رہے ہیں اور اعلان کیا کہ رواں سال کے اختتام تک 750 سے زائد سرکاری ملکیتی ادارے بند کر دیئے جائیں گے۔
انڈونیشیا کا 750 غیر پیداواری سرکاری ادارے بند کرنے کا اعلان

مزید خبریں
جکارتہ۔15اگست (اے پی پی):انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے غیر پیداواری سرکاری اداروں کے بورڈز کی تحقیقات کے لیےخصوصی عدالت قائم کرنے کاعندیہ دیا ہے،جو مبینہ طور پر فرضی منافع ظاہر کرتے رہے ہیں اور اعلان کیا کہ رواں سال کے اختتام تک 750 سے زائد سرکاری ملکیتی ادارے بند کر دیئے جائیں گے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر پیداواری سرکاری اداروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ مسلسل خسارے کی رپورٹ دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی منافع کا دعویٰ بھی کرتے ہیں جبکہ یہ منافع صرف فرضی نوعیت کا ہوتا ہے۔
صدر نے بتایا کہ گزشتہ سال ریاستی اثاثوں کے انتظام کے لیے قائم کیے گئے خودمختار ویلتھ فنڈ دانانتارا کے ذریعے جب سرکاری اداروں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ملک میں 1074 سرکاری ملکیتی ادارے موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ شاید 300 یا 400 سرکاری ادارے ہوں گے لیکن حقیقت میں ان کی تعداد 1,074 نکلی، ان میں سے بعض ادارے اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں اور نہ قوم اور نہ ہی ریاست کے لیے جوابدہی کا احساس رکھتے ہیں۔صدر نے کہا کہ اب تک 290 ادارے بند کیے جا چکے ہیں جبکہ 31 دسمبر تک ان کی مجموعی تعداد کم کر کے 300 سے زیادہ نہیں رہنے دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم 750 سے زائد ادارے بند کریں گے اور صرف وہی ادارے برقرار رکھیں گے جو پیداواری ہوں اور عوام کے لیے حقیقی اضافی قدر پیدا کریں۔ یہ ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی کارپوریٹ تنظیمِ نوہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس مہم کے نتیجے میں اب تک 50 کھرب روپیہ (تقریباً 2.8 ارب ڈالر) کے انتظامی اخراجات کی بچت ہو چکی ہے، جن میں ڈائریکٹرز اور کمشنرز کی تنخواہیں، عمارتوں اور گاڑیوں کے کرائے اور سرکاری سفری اخراجات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2026 کے لیے حکومت کا ہدف 70 کھرب روپیہ سے زیادہ کی بچت کرنا ہے۔
صدر نے کہا کہ سرکاری اداروں کے انتظام میں بہتری کی بدولت ان کا مجموعی منافع 2024 کے مقابلے میں 75 فیصد سے زیادہ بڑھ کر گزشتہ سال 326 کھرب روپیہ ہو گیا۔پرابوو سوبیانتو نے تجویز دی کہ سرکاری ملکیتی اداروں کے انتظام اور ان کے بورڈز کی گزشتہ 30 برس، یا ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ عرصے کی کارکردگی کی تحقیقات کے لیےایک خصوصی ایڈہاک عدالت قائم کی جائے۔ انہوں نے قانون سازوں سے کہا کہ وہ ان افراد کے لیے ایک طرح کی ’’خصوصی معافی‘‘ پر غور کریں جو اپنی غلطیوں پر پشیمانی کا اظہار کر چکے ہوں۔







