انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ

اسلام آباد ۔ 27 مارچ (اے پی پی) خیبر پختونخوا میں بڑی تعداد میں سکول صفائی کی مناسب سہولیات کے بغیر کام کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اس حوالے سے تعلیم کے شعبے میں بڑی اصلاحات کے دعوے جعلی ثابت ہوئے ہیں۔ انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (آئی ایم یو) کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں تقریباً 6 فیصد سکولوں میں صفائی ستھرائی کی …

اسلام آباد ۔ 27 مارچ (اے پی پی) خیبر پختونخوا میں بڑی تعداد میں سکول صفائی کی مناسب سہولیات کے بغیر کام کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اس حوالے سے تعلیم کے شعبے میں بڑی اصلاحات کے دعوے جعلی ثابت ہوئے ہیں۔ انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (آئی ایم یو) کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں تقریباً 6 فیصد سکولوں میں صفائی ستھرائی کی سہولیات نہیں ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ایلیمنٹری و سکینڈری تعلیم کے محکمے کے اس دعوے کہ ڈسٹرکٹ کنڈیشنل گرانٹ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں پرائمری سکولوں میں 16 ہزار ٹائلٹس تعمیر کئے گئے ہیں، حقیقت میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا کے ایلیمٹنری و سکینڈری تعلیم کے محکمے کی دستاویزات کے مطابق یہ پروگرام 2011ءمیں شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد سکولوں میں چار دیواری، صفائی ستھرائی، پانی کی فراہمی، بجلی کی فراہمی، کلاس رومز کی تعمیر اور سولر پینلز جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنا تھا اور اس پروگرام کا مقصد طلباءو طالبات کو مساوی سہولیات کی فراہمی کی حوصلہ افزائی اور والدین اور اساتذہ کی کونسلز کے ذریعے تعلیم کے شعبے میں کمیونٹی کی شرکت کو یقینی بنانا تھا تاکہ تعمیراتی کام کمیونیکیشن ورکس ڈیپارٹمنٹ کی بجائے وہ خود آگے بڑھا سکیں۔ فنڈز کی تخصیص کے بعد محکمے نے 12 ہزار اضافی کلاس رومز، 13 ہزار 638 چار دیواریوں، 9 ہزار 856 سکولوں میں بجلی اور 12 ہزار سکولوں میں پانی کی فراہمی سمیت 20 ارب روپے مالیت کی سہولیات کی فراہمی کا اعلان کیا لیکن فروری 2017ءکی آئی ایم یو کی رپورٹ نے اس حوالے سے کئے جانے والے دعوﺅں کی نفی کردی ہے۔

Leave a Reply