اوپن اے آئی نے سائبر سکیورٹی پروگرام ’’ڈے بریک‘‘ کو وسعت دے دی

اوپن اے آئی نےاعلان کیا ہے کہ وہ اپنے خصوصی سائبر سکیورٹی پروگرام ڈے بریک کو وسعت دے رہی ہے تاکہ اس میں شامل شرکا کو حملہ آوروں سے دفاع کے لیے درکار مناسب صلاحیتوں تک رسائی فراہم کی جا سکے۔

واشنگٹن ۔12اگست (اے پی پی):اوپن اے آئی نےاعلان کیا ہے کہ وہ اپنے خصوصی سائبر سکیورٹی پروگرام ڈے بریک کو وسعت دے رہی ہے تاکہ اس میں شامل شرکا کو حملہ آوروں سے دفاع کے لیے درکار مناسب صلاحیتوں تک رسائی فراہم کی جا سکے۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق اوپن اے آئی سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈے بریک کا مقصد اس کے شراکت داروں کو جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز استعمال کرنے کا موقع دینا ہے تاکہ وہ تیزی سے بدلتے ہوئے سائبر خطرات کا مقابلہ کر سکیں۔اوپن اے آئی نے بتایا کہ پروگرام کو اب دو مختلف سطحوں ڈے بریک بلیو اور ڈے بریک ریڈ میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ڈے بریک بلیو کے تحت صارفین کو اوپن اے آئی کے جدید عمومی مقاصد کے ماڈلز تک خصوصی رسائی دی جائے گی۔

کمپنی کے مطابق ان ماڈلز کے حفاظتی نظام میں تبدیلی کی جائے گی تاکہ انہیں دفاعی سائبر سکیورٹی کے کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔دوسری جانب ڈے بریک ریڈ کے شرکا کو اس سے بھی زیادہ جدید سہولیات حاصل ہوں گی۔ وہ اوپن اے آئی کے خصوصی طور پر سائبر سکیورٹی کے لیے تربیت یافتہ ماڈلز کو سکیورٹی ٹیسٹنگ، کمزوریوں کی تحقیق اور سکیورٹی خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی تکنیکوں کی جانچ کے لیے استعمال کر سکیں گے۔

اوپن اے آئی نے ایک نیا مصنوعی ذہانت کا ماڈل جی پی ٹی-5.6 سائبر بھی متعارف کرایا ہے، جو ڈے بریک ریڈ کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل اس کے سب سے طاقتور عوامی ماڈل جی پی ٹی-5.6 سول کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، تاہم اسے مخصوص سائبر سکیورٹی کاموں میں بہتر کارکردگی دکھانے اور غیر ضروری طور پر جواب دینے سے انکار کو کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔اوپن اے آئی گزشتہ کئی ماہ کے دوران بارہا خبردار کر چکی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی سائبر حملوں اور دفاع سے متعلق صلاحیتیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔